کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد سالانہ پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی بینک کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق یہ فیصلہ 14 ستمبر 2026 کے اجلاس میں کیا گیا۔ Dawn کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق دس رکنی کمیٹی میں سات ارکان نے شرح سود برقرار رکھنے جبکہ تین نے مختلف موقف کے حق میں ووٹ دیا، جس سے فیصلہ اکثریتی بنیاد پر سامنے آیا۔
زری پالیسی کمیٹی نے اپنے جائزے میں عالمی اور ملکی معاشی حالات دونوں کو مدنظر رکھا۔ کمیٹی کے مطابق مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث پہلے سے بلند عالمی کموڈیٹی قیمتوں میں مزید اضافہ اور سپلائی چین میں رکاوٹیں برقرار رہیں۔ دوسری طرف ملکی معاشی اعداد و شمار مجموعی طور پر کمیٹی کی سابقہ توقعات کے مطابق رہے۔
اسٹیٹ بینک کے بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ اگست 2026 میں سال بہ سال عمومی مہنگائی 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جو جولائی میں 9.2 فیصد تھی، جبکہ بنیادی مہنگائی توقع سے قدرے کم رہی۔ زرعی شعبے کے حوالے سے چاول اور گنے کے رقبے میں اضافے اور کپاس کی ابتدائی آمد سے بہتر امکانات کا ذکر کیا گیا۔ کمیٹی نے مالی سال 2026-27 کے لیے حقیقی جی ڈی پی نمو کا سابقہ تخمینہ 3.5 سے 4.5 فیصد کی حد میں برقرار رکھا۔
بیرونی کھاتے کے بارے میں کمیٹی نے کہا کہ جولائی کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اس کی توقعات کے مطابق رہا، کیونکہ اشیا و خدمات کی درآمدات میں اضافہ برآمدات اور مضبوط کارکن ترسیلات زر کی نمو سے زیادہ تھا۔ Dawn کے مطابق ستمبر میں یورو بانڈ اجرا اور اسٹیٹ بینک کی زرمبادلہ خریداریوں کے بعد ذخائر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے کا ذکر بھی بیان میں کیا گیا۔ کمیٹی نے مالی سال 2026-27 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع برقرار رکھی۔
مالیاتی شعبے کے جائزے میں کہا گیا کہ مالی سال 2025-26 میں مالی استحکام بجٹ اہداف سے بہتر رہا، جس میں موجودہ اخراجات بالخصوص سودی ادائیگیوں میں کمی نے کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ اسٹیٹ بینک کے 1.9 ٹریلین روپے کے منافع کی منتقلی نے مالی سال 2026-27 کے مالی منظرنامے کو سہارا دیا۔ کمیٹی نے مالی اصلاحات کی رفتار بڑھانے کی اہمیت پر دوبارہ زور دیا۔
11.5 فیصد پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کا یہ فیصلہ اپریل 2026 میں شرح کو 100 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 11.5 فیصد کرنے کے بعد مسلسل سخت زری پالیسی موقف کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے موجودہ interest-rate corridor میں اوور نائٹ ریورس ریپو ceiling 12.5 فیصد اور repo floor 10.5 فیصد درج ہیں۔
