اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 14 ستمبر کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی بینک کے باضابطہ مانیٹری پالیسی بیان کے مطابق 10 میں سے 7 ارکان نے شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ کمیٹی نے کہا کہ ملک کے اندر حالیہ معاشی اعداد و شمار مجموعی طور پر اس کی توقعات کے مطابق رہے، تاہم عالمی اور علاقائی صورتحال نے غیر یقینی میں اضافہ کیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق اگست میں سالانہ بنیاد پر عمومی مہنگائی 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جو جولائی میں 9.2 فیصد تھی۔ مرکزی بینک نے خوراک کی قیمتوں، گندم اور متعلقہ اشیا، جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا اور بلند توانائی لاگت کو مہنگائی کے اہم عوامل قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایندھن کی قیمتوں کے اثرات نقل و حمل کے اخراجات تک منتقل ہوئے اور بنیادی مہنگائی 8.7 فیصد تک پہنچ گئی۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مشرق وسطیٰ کے طویل تنازع میں شدت، عالمی اجناس کی بلند قیمتوں اور سپلائی چین میں جاری رکاوٹوں کو معاشی منظرنامے کے لیے بڑے بیرونی خطرات میں شمار کیا۔ کمیٹی کے مطابق موجودہ شرح سود کا مؤقف درمیانی مدت میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے کی طرف لانے کے لیے موزوں ہے، تاہم جغرافیائی سیاسی حالات اور موسمی خلل جیسے جھٹکوں کے باعث خطرات بڑھ گئے ہیں۔
مرکزی بینک نے یہ بھی بتایا کہ بیرونی کھاتے پر دباؤ فی الحال قابو میں رہا، جس میں ترسیلات زر اور مالی رقوم کی آمد نے مدد دی۔ ستمبر میں یورو بانڈز کے ذریعے 3 ارب ڈالر کی فنانسنگ اور اسٹیٹ بینک کی زرمبادلہ خریداری کے نتیجے میں ذخائر 21 ارب ڈالر سے اوپر چلے گئے، جبکہ مانیٹری پالیسی بیان میں انہیں 21.4 ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ رواں مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے، بشرطیکہ ترسیلات اور آئی سی ٹی برآمدات مضبوط رہیں اور منصوبہ بند مالی رقوم موصول ہوں۔
حقیقی معیشت کے بارے میں کمیٹی نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں سست روی کے بعد جولائی میں سرگرمی کے بعض اشاریوں میں بحالی کے آثار سامنے آئے ہیں۔ اس نے رواں مالی سال کے لیے حقیقی جی ڈی پی نمو کی 3.5 سے 4.5 فیصد کی سابقہ پیش گوئی برقرار رکھی ہے۔
مالیاتی شعبے میں کمیٹی نے ٹیکس بنیاد وسیع کرنے، سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنے اور مالی اصلاحات کی رفتار بڑھانے کی ضرورت بھی دہرائی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مہنگائی کے مستقبل کے راستے کو عالمی اجناس کی قیمتوں، بجلی و گیس کے نرخوں میں ممکنہ ردوبدل، سپلائی رکاوٹوں، خوراک کی قیمتوں اور بگڑتی ایل نینو صورتحال سے خطرات لاحق ہیں۔
فیصلہ شرح سود میں اضافہ یا کمی نہیں بلکہ موجودہ سطح برقرار رکھنے کا ہے۔ مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ آئندہ فیصلے آنے والے معاشی اعداد و شمار، مہنگائی کی سمت اور مشرق وسطیٰ سمیت عالمی حالات کی نگرانی کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔

