اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ان میڈیا اور سوشل میڈیا رپورٹس کو گمراہ کن قرار دیا ہے جن میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کے فوری ادائیگی نظام ’’راست‘‘ کو منی لانڈرنگ کا چینل قرار دیا ہے۔ مرکزی بینک کی 4 ستمبر 2026 کی وضاحت کے مطابق ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ نے نہ راست کو بذاتِ خود منی لانڈرنگ کا طریقہ قرار دیا اور نہ اس کے ادائیگی ڈھانچے کی سالمیت پر کوئی مخصوص اعتراض اٹھایا۔
ایف اے ٹی ایف کی سرکاری رپورٹ زیرزمین بینکاری، حوالہ اور اس جیسے غیر رسمی مالیاتی خدمات فراہم کرنے والوں کے ممکنہ مجرمانہ استعمال کا عالمی جائزہ ہے۔ اس میں متعدد ممالک کی مثالیں شامل کرکے دکھایا گیا ہے کہ غیر لائسنس یافتہ آپریٹر نقد رقم، بینک اکاؤنٹس، موبائل ذرائع، ڈیجیٹل ادائیگی چینلز اور ورچوئل اثاثوں کو کس طرح ایک وسیع غیر رسمی تصفیہ نظام کے ساتھ ملا سکتے ہیں۔ رپورٹ کا بنیادی موضوع ایسے آپریٹر اور نیٹ ورک ہیں، نہ کہ ہر وہ قانونی مالیاتی سہولت جس کے ذریعے کسی مقامی ادائیگی کا ایک حصہ مکمل کیا گیا ہو۔
پاکستان سے متعلق زیر بحث مثال عمان میں شناخت کیے گئے ایک غیر لائسنس یافتہ ترسیلاتی بندوبست سے متعلق تھی۔ رپورٹ کے مطابق ’’ایکس ایکس منی ایکسچینج‘‘ نامی واٹس ایپ گروپ کے ذریعے عمان میں صارفین سے رقم وصول کی جاتی اور پاکستان میں موجود دوسرے فریق کے ذریعے مستفید شخص کو مقامی ادائیگی کردی جاتی تھی۔ بعض مقامی ادائیگیاں راست یا دوسرے دستیاب چینلز کے ذریعے ہوئیں۔ یہ بیان کسی قانونی ادائیگی ریل کو غیر قانونی قرار نہیں دیتا بلکہ اس صورت کی وضاحت کرتا ہے جس میں ایک غیر مجاز سرحد پار آپریٹر نے جائز ملکی ادائیگی سہولت کو اپنے غیر رسمی بندوبست کے آخری مقامی مرحلے میں استعمال کیا۔
اسٹیٹ بینک نے کہا کہ راست اس وقت سرحد پار رقوم کی منتقلی کی سہولت فراہم نہیں کرتا۔ راست کے ذریعے ہونے والا متعلقہ لین دین پاکستان کے اندر ایک مقامی منتقلی تھا، جبکہ بیرون ملک رقم وصول کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان حساب برابر کرنے کا غیر رسمی انتظام الگ فریقوں کے ذریعے کیا گیا۔ اسی فرق کی بنا پر مرکزی بینک نے اس تشریح کو مسترد کیا کہ راست خود عمان سے پاکستان رقم منتقل کرنے یا منی لانڈرنگ کے لیے بنایا گیا چینل تھا۔
کسی منظم جرائم یا غیر قانونی حوالہ نیٹ ورک کا رسمی بینک اکاؤنٹ، فوری ادائیگی نظام یا موبائل والیٹ استعمال کرنا اس پورے بنیادی ڈھانچے کو مجرمانہ نہیں بناتا۔ مالیاتی نگرانی کا اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ صارف کی شناخت، لین دین کے نمونے، مشکوک سرگرمی کی رپورٹنگ، اکاؤنٹ کے حقیقی مالک اور رقم کے ماخذ و مقصد سے متعلق حفاظتی انتظامات کس حد تک غیر قانونی استعمال کی شناخت اور روک تھام کرسکتے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف نے بھی حکومتوں، مالیاتی اداروں اور نجی شعبے کو زیرزمین مالی نیٹ ورکس کے بدلتے طریقوں کے خلاف نگرانی، معلومات کے تبادلے اور خطرے کی شناخت بہتر بنانے کی سفارش کی ہے۔
مرکزی بینک نے راست اور پاکستان کے دیگر ادائیگی نظاموں کی سلامتی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق حفاظتی انتظامات مضبوط رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ تاہم اس وضاحت کا مطلب یہ نہیں کہ کسی بھی ڈیجیٹل نظام کے غلط استعمال کا امکان مکمل طور پر ختم ہوگیا؛ بلکہ یہ مخصوص دعوے کی تصحیح ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے راست کو بذاتِ خود منی لانڈرنگ کا ذریعہ قرار دیا تھا۔ ممکنہ مجرمانہ استعمال سے متعلق کسی انفرادی کیس میں ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقات، مالیاتی ریکارڈ اور قانونی کارروائی سے ہوگا۔
فی الحال تصدیق شدہ نتیجہ یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف رپورٹ نے غیر رسمی اور زیرزمین مالیاتی نیٹ ورکس کے خطرات بیان کیے، جبکہ راست کو ایک جائز داخلی ادائیگی چینل کے طور پر مثال میں ذکر کیا۔ اسٹیٹ بینک نے ادائیگی نظام اور اس کے کسی غیر قانونی ثالث کے ہاتھوں غلط استعمال کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے گردش کرنے والی سرخی کو رپورٹ کے سیاق سے متصادم قرار دیا ہے۔




