اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر فروری 2023 میں 3 ارب ڈالر سے کم سطح سے بڑھ کر 9 اکتوبر 2026 تک 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ان کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ نئے قرض لینے کے بجائے اسٹیٹ بینک کی اپنی زرمبادلہ خریداری رہی، جبکہ گزشتہ تین برس میں بیرونی قرض کے مجموعی اسٹاک میں نسبتاً معمولی اضافہ ہوا۔

بینکاک میں عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر غیر ملکی سرمایہ کاروں سے ملاقاتوں کے دوران گورنر نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی فارورڈ واجبات بھی 5.7 ارب ڈالر سے زیادہ کی سطح سے کم ہو کر ایک ارب ڈالر سے نیچے آ گئی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے بیان کے مطابق مالی سال 2025-26 میں تقریباً متوازن کرنٹ اکاؤنٹ نے مرکزی بینک کو مارکیٹ سے زرمبادلہ خریدنے میں مدد دی۔

جمیل احمد نے 12 سے 17 اکتوبر کے دوران جے پی مورگن، سٹی بینک، جیفریز، ڈوئچے بینک، بارکلیز، بینک آف امریکا، ایم ایس سی آئی، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ اور متسوبشی یو ایف جے فنانشل گروپ سمیت مختلف عالمی مالیاتی اداروں کے سینئر عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔ ان کے علاوہ دوطرفہ اور کثیرالجہتی شراکت داروں، دیگر مرکزی بینکوں اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے نمائندوں سے بھی رابطے ہوئے۔

گورنر کے مطابق مسلسل معاشی پالیسیوں اور ساختی اصلاحات سے معیشت کی اندرونی اور بیرونی جھٹکوں کے مقابلے کی صلاحیت بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2022-23 کی بلند مہنگائی کے بعد مالی سال 2025-26 میں افراط زر ہدفی حد کے قریب آ گیا، جبکہ حقیقی جی ڈی پی نمو مالی سال 2025-26 میں 3.7 فیصد رہی۔ اسٹیٹ بینک مالی سال 2026-27 کے لیے 3.5 سے 4.5 فیصد نمو کی توقع کر رہا ہے۔

انہوں نے ایکسچینج کمپنیوں کی ریگولیٹری اصلاحات اور ترسیلات زر کو رسمی چینلز سے لانے کے اقدامات کو انٹربینک مارکیٹ میں زرمبادلہ کی دستیابی بہتر ہونے سے جوڑا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق موجودہ مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر سے ایک فیصد جی ڈی پی کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ یہ اعداد اور تخمینے مرکزی بینک کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں؛ آئندہ ذخائر کی سمت عالمی توانائی قیمتوں، بیرونی ادائیگیوں، ترسیلات، برآمدات اور سرمایہ کاری کے بہاؤ سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہوگی۔