اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر محمد علی خان نے کہا ہے کہ مرکزی بینک کی ڈیجیٹل مالیاتی پالیسی کا مقصد صرف زیادہ لوگوں کو آن لائن خدمات تک رسائی دینا نہیں بلکہ اعتماد، ریگولیشن اور جوابدہی پر مبنی مالی ایکو سسٹم قائم کرنا بھی ہے۔ انہوں نے کراچی میں پاکستان فن ٹیک فورم کے چوتھے ایڈیشن سے خطاب کیا۔
فورم میں اسٹیٹ بینک، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی، پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی، راست پیمنٹس پاکستان اور مالی و ٹیکنالوجی شعبے کی مختلف تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔ گفتگو کا محور پاکستان کے تیزی سے بدلتے ڈیجیٹل مالی نظام کا اگلا مرحلہ تھا۔
موبائل والٹس، فوری ادائیگی، ڈیجیٹل بینک اور فن ٹیک مصنوعات مالی شمولیت بڑھا سکتی ہیں، لیکن فراڈ، سائبر حملے، ڈیٹا پرائیویسی اور صارف شکایات کے خطرات بھی بڑھتے ہیں۔ مرکزی بینک کے لیے جدت کی اجازت اور صارف تحفظ کے درمیان توازن اہم ریگولیٹری ذمہ داری ہے۔
راست جیسے فوری ادائیگی نظام نے کم لاگت ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کی بنیادی انفراسٹرکچر فراہم کیا ہے۔ اگلا چیلنج چھوٹے کاروبار، سرکاری ادائیگی، قرض اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو اس ڈیجیٹل نیٹ ورک سے جوڑنا ہے تاکہ ٹیکنالوجی صرف رقم منتقل کرنے کے بجائے حقیقی معاشی سرگرمی میں اضافہ کرے۔
ڈپٹی گورنر کا بیان پالیسی سمت کی وضاحت ہے، کوئی نیا مخصوص ضابطہ نہیں۔ آئندہ کامیابی صارفین کے اعتماد، فراڈ کی شرح، شکایات کے حل، ڈیجیٹل لین دین کے حجم اور ایسے افراد کی مالی شمولیت سے ناپی جائے گی جو روایتی بینکاری نظام سے باہر ہیں۔ مضبوط سائبر سکیورٹی اور واضح ذمہ داری اس توسیع کے لیے بنیادی شرط ہوگی۔




