شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہونے والے اجلاس کے اختتام پر مشترکہ بشکیک اعلامیہ منظور کر لیا ہے۔ اعلامیے میں علاقائی سلامتی، دہشت گردی اور انتہاپسندی سے نمٹنے، تجارت و سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ رابطوں، توانائی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور کثیرالجہتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں پاکستان نے 2026-27 کے لیے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی چیئرمین شپ سنبھالی اور اگلے سربراہی اجلاس کی میزبانی 2027 میں کرے گا۔ یہ تنظیمی فیصلہ پاکستان کو آئندہ ایک سال کے دوران رکن ممالک کے درمیان ایجنڈا سازی اور سربراہی سطح کے اجلاس کی تیاری میں مرکزی کردار دیتا ہے۔
بشکیک اعلامیہ میں رکن ممالک نے خودمختاری، علاقائی سالمیت، عدم مداخلت اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں پر زور دیا۔ علاقائی دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہاپسندی کے خلاف مشترکہ ادارہ جاتی تعاون جاری رکھنے اور سرحد پار جرائم، منشیات اور سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے رابطہ بڑھانے کی ضرورت بھی بیان کی گئی۔
اقتصادی شعبے میں رہنماؤں نے تجارت میں رکاوٹیں کم کرنے، علاقائی ٹرانسپورٹ راہداریوں، ریلوے و سڑک رابطوں، توانائی تعاون اور ڈیجیٹل معیشت کے امکانات کو آگے بڑھانے کی حمایت کی۔ مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجیز سے متعلق تعاون بھی اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل رہا۔ مختلف رکن ممالک کی ترجیحات الگ ہونے کے باوجود مشترکہ اعلامیہ ان شعبوں میں عمومی سیاسی اتفاق فراہم کرتا ہے۔
اعلامیے کی منظوری کسی ایک منصوبے کے فوری نفاذ کے مترادف نہیں ہوتی؛ متعدد فیصلوں کے لیے بعد میں وزارتی، تکنیکی اور مالی سطح پر الگ معاہدے درکار ہوں گے۔ پاکستان کی چیئرمین شپ کے دوران اصل امتحان یہ ہوگا کہ بشکیک میں طے کردہ وسیع اہداف کو قابل پیمائش منصوبوں اور مشترکہ پروگراموں میں کس حد تک تبدیل کیا جاتا ہے۔ 2027 کا پاکستان میں سربراہی اجلاس اس مدت کی پیش رفت کا اہم جائزہ ہوگا۔




