کراچی: پاکستان نیوی نے دو ستمبر 2026 کو کراچی میں اپنی بڑی بحری مشق سی اسپارک 2026 کا آغاز کر دیا ہے۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق مشق کا بنیادی مقصد روایتی اور ابھرتے ہوئے بحری خطرات کے مقابل بحریہ کی جنگی تیاری، مختلف پلیٹ فارمز کے باہمی رابطے اور مسلح افواج کے مشترکہ عملی ردعمل کو جانچنا ہے۔

مشق کی افتتاحی بریفنگ چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کی صدارت میں ہوئی، جس میں پاکستان کی مسلح افواج کے سینئر افسران شریک ہوئے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ سی اسپارک میں بحری جہاز، آبدوزیں، طیارے، بغیر پائلٹ نظام، میرینز، اسپیشل فورسز اور پاک فوج و پاک فضائیہ کے متعلقہ عناصر شامل کیے گئے ہیں۔

یہ مشق کسی حقیقی جنگ یا فوری کارروائی کا اعلان نہیں بلکہ تربیتی اور عملی تیاری کی جانچ ہے۔ اس میں مختلف یونٹس کو فرضی حالات، منصوبہ بند مشن اور رابطہ کاری کے مراحل سے گزارا جاتا ہے تاکہ موجودہ عملی منصوبوں، کمانڈ نظام اور مختلف فورسز کے درمیان تعاون کا جائزہ لیا جا سکے۔ جاری کردہ بیان میں مشق کی مکمل مدت، شریک اہلکاروں کی تعداد یا تمام عملی مقامات کی تفصیل نہیں دی گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سی اسپارک 2026 میں کثیر الجہتی آپریشنز کی مشق کی جا رہی ہے۔ اس تصور میں سمندر، فضا اور زمین کے ساتھ سائبر اور خلائی مدد سے چلنے والی صلاحیتوں کو ایک مربوط منصوبے میں استعمال کرنا شامل ہے۔ مشق میں معلوماتی ماحول سے متعلق کارروائیوں کو بھی سمندر میں روایتی عملی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑا گیا ہے، تاکہ فیصلہ سازی اور رابطہ نظام کی مؤثریت کو پرکھا جا سکے۔

ایڈمرل نوید اشرف نے مشق سے قبل پاکستان نیوی فلیٹ کے یونٹس کا دورہ کیا اور جاری آپریشنز کا جائزہ لیا۔ افسران اور اہلکاروں سے خطاب میں انہوں نے بدلتے ہوئے سلامتی کے ماحول کے تناظر میں مسلسل تیاری، تینوں افواج کے زیادہ مضبوط انضمام، حالات کے مطابق ڈھلنے اور جسمانی و معلوماتی دونوں میدانوں میں مؤثر کارکردگی پر زور دیا۔

پاکستان نیوی کی مشق میں بری اور فضائی افواج کے عناصر کی شرکت اسے صرف بحری پلیٹ فارمز کی آزمائش تک محدود نہیں رکھتی۔ مشترکہ یونٹس کے ذریعے یہ جانچا جاتا ہے کہ نگرانی، فضائی مدد، ساحلی دفاع، معلومات کی ترسیل اور سمندری کارروائی ایک ہی عملی تصویر میں کس حد تک مربوط رہتے ہیں۔ سرکاری مؤقف کے مطابق یہ باہمی ربط روایتی جنگی خطرات کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے چیلنجز کے لیے بھی ضروری ہے۔

سرکاری اور صحافتی ذرائع نے آغاز اور مشق کے وسیع مقاصد کی تصدیق کی ہے، لیکن کسی مخصوص مخالف ملک، حقیقی حملے یا فوری خطرے کو اس مشق کا سبب قرار نہیں دیا۔ اسی طرح مشق کے نتائج یا جنگی تیاری کی درجہ بندی ابھی جاری نہیں کی گئی۔ ایسی تفصیلات عام طور پر عملی مراحل مکمل ہونے اور متعلقہ اداروں کے جائزے کے بعد سامنے آتی ہیں۔

فی الحال مصدقہ پیش رفت یہ ہے کہ سی اسپارک 2026 کراچی میں شروع ہو چکی ہے، بحریہ کے بڑے پلیٹ فارمز اور تینوں افواج کے متعلقہ عناصر اس میں حصہ لے رہے ہیں، اور مشق کا مرکز روایتی، ابھرتے، سائبر، خلائی مدد یافتہ اور معلوماتی ماحول سے جڑے بحری چیلنجز کے مقابل مشترکہ تیاری کی جانچ ہے۔