سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، ایس ای سی پی، نے 28 ہزار 761 کمپنیوں کو حقیقی فائدہ مند مالکان، یعنی الٹیمیٹ بینیفیشل اونرز، کی تفصیلات مبینہ طور پر جمع نہ کرانے پر شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔ ریگولیٹر کے بیان کی رپورٹنگ کے مطابق متعلقہ کمپنیوں کو فارم 19 داخل کرنے، تعمیل کے شواہد دینے اور نوٹس کا جواب فراہم کرنے کے لیے 30 دن کی مہلت دی گئی ہے۔
شوکاز نوٹس کسی خلاف ورزی کا حتمی فیصلہ یا جرمانے کا حکم نہیں ہوتا۔ اس مرحلے پر ایس ای سی پی نے کمپنیوں سے وضاحت طلب کی ہے کہ مقررہ قانونی معلومات کیوں جمع نہیں کرائی گئیں۔ کمپنی کی جانب سے جواب، پہلے سے کی گئی فائلنگ، ممکنہ تکنیکی رکاوٹ یا دوسری متعلقہ دستاویزات دیکھنے کے بعد ہی ریگولیٹر یہ طے کر سکتا ہے کہ کارروائی ختم کی جائے، مزید معلومات مانگی جائیں یا قانون کے تحت تعزیری کارروائی شروع کی جائے۔
کمپنیز ایکٹ 2017 کی دفعہ 123A اور کمپنیز ریگولیشنز 2024 کے متعلقہ قواعد کے تحت کمپنیوں کو ان قدرتی افراد کی شناخت اور ریکارڈ رکھنا ہوتا ہے جو بالآخر کمپنی کے مالک یا کنٹرولر ہوں۔ ضابطے کے مطابق ایسا فرد براہِ راست یا بالواسطہ کم از کم 25 فیصد حصص یا ووٹنگ حقوق رکھ سکتا ہے، یا کسی اور ذریعے سے کمپنی کے مالی اور کاروباری فیصلوں پر مؤثر کنٹرول استعمال کر سکتا ہے۔ پیچیدہ ملکیتی زنجیر، قریبی رشتہ دار یا وابستہ افراد کے ذریعے نمایاں اثر بھی جانچ کا حصہ بن سکتا ہے۔
سرکاری قواعد کے مطابق کمپنی کو اپنے حقیقی فائدہ مند مالکان کا رجسٹر برقرار رکھنا، شناخت کی مناسب تصدیق کرنا اور مقررہ حالات میں فارم 19 کے ذریعے رجسٹرار کو تعمیل کا اعلان دینا ہوتا ہے۔ 30 جون 2025 یا اس کے بعد ختم ہونے والے مالی سالوں سے یو بی او معلومات کی فائلنگ کے تقاضے مزید منظم انداز میں نافذ کیے گئے۔ نئے رکن، ملکیت میں تبدیلی یا کنٹرول کی تفصیل بدلنے پر بھی مقررہ مدت میں ریکارڈ اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔
ریگولیٹر کے مطابق حقیقی مالک کی شناخت کا مقصد صرف کمپنی کے قانونی نام یا ظاہری شیئر ہولڈر تک محدود رہنے کے بجائے اس فرد تک پہنچنا ہے جو عملی طور پر فائدہ حاصل کرتا یا فیصلہ کن اختیار رکھتا ہے۔ ایسے انکشافات کو منی لانڈرنگ، اثاثے چھپانے، فرنٹ کمپنیوں اور غیر قانونی مالی بہاؤ کے خطرات کم کرنے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم کسی کمپنی کی فارم فائلنگ میں کمی بذاتِ خود منی لانڈرنگ یا کسی دوسرے جرم کا ثبوت نہیں؛ ہر معاملے کا فیصلہ اس کے اپنے ریکارڈ اور قانونی عمل پر ہوگا۔
ایس ای سی پی کے اعداد کے مطابق جون 2026 کے اختتام تک پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ تھی۔ 28,761 نوٹس اسی مجموعی کارپوریٹ رجسٹری کے ایک حصے سے متعلق ہیں۔ نوٹسوں کی بڑی تعداد اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ریگولیٹر نے یو بی او فائلنگ کی وسیع پیمانے پر جانچ کی ہے، مگر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کتنی کمپنیوں نے مکمل طور پر معلومات نہیں دیں، کتنی کی فائلنگ نامکمل تھی اور کتنے معاملات تکنیکی یا ریکارڈ کی مماثلت کے مسئلے سے متعلق ہیں۔
متعلقہ کمپنیوں کے لیے عملی اگلا قدم یہ ہے کہ وہ اپنے شیئر ہولڈنگ اور کنٹرول کے ڈھانچے کا جائزہ لیں، حقیقی مالکان سے مطلوبہ اعلامیے حاصل کریں، داخلی رجسٹر درست کریں اور فارم 19 کے ساتھ ثبوت مقررہ مدت میں جمع کرائیں۔ اگر کوئی کمپنی نوٹس سے اختلاف کرتی ہے تو اسے بھی 30 دن میں دستاویزی جواب دینا ہوگا۔
ایس ای سی پی نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت میں تعمیل نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی یا تعزیری کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ ممکنہ کارروائی ابھی مستقبل اور کیس بہ کیس فیصلے سے مشروط ہے۔ اس لیے موجودہ تصدیق شدہ نتیجہ صرف یہ ہے کہ شوکاز نوٹس جاری ہوئے ہیں اور جواب کا موقع دیا گیا ہے؛ جرمانہ، ذمہ داری یا قصور کا حتمی تعین ابھی نہیں ہوا۔




