اسلام آباد: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، ایس ای سی پی، کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ کا سنگ میل عبور کرتے ہوئے 311,765 تک پہنچ گئی ہے۔ اگست 2026 کے دوران 4,761 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ کمیشن نے اس اضافے کو کاروبار کی رسمی معیشت میں شمولیت، ڈیجیٹل رجسٹریشن اور سہولت کاری میں پیش رفت سے جوڑا ہے، تاہم رجسٹریشن بذاتِ خود ہر کمپنی کے فعال، منافع بخش یا ٹیکس ادا کرنے والے کاروبار ہونے کی ضمانت نہیں۔
ایس ای سی پی کے جاری کردہ ماہانہ اعداد کے مطابق تقریباً 99.9 فیصد نئی کمپنیاں وفاقی اور صوبائی نظاموں سے منسلک آن لائن طریقہ کار کے ذریعے رجسٹر ہوئیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل عمل نے درخواست، نام کی منظوری اور انکارپوریشن کی دستاویزات جمع کرانے میں آسانی پیدا کی۔ چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے رجسٹریشن میں مسلسل اضافے کو کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کے ریگولیٹری فریم ورک پر اعتماد اور ڈیجیٹل تبدیلی کا نتیجہ قرار دیا۔ یہ تشریح کمیشن کا ادارہ جاتی مؤقف ہے؛ وسیع معاشی اعتماد کا جامع اندازہ سرمایہ کاری، روزگار، فروخت اور کاروباری بقا کے مزید اعداد سے ہوگا۔
اگست میں رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں نجی محدود کمپنیوں کی تعداد 2,762 رہی، جو ماہانہ مجموعے کا 58.01 فیصد بنتی ہے۔ ایک رکن پر مشتمل کمپنیوں کی تعداد 1,846 درج کی گئی۔ اس کے علاوہ 113 محدود ذمہ داری شراکت داریاں، 28 غیر منافع بخش کمپنیاں اور 12 دیگر اقسام کی کمپنیاں شامل ہوئیں، جن میں سرکاری، غیر ملکی اور ٹریڈ آرگنائزیشن نوعیت کے ادارے شامل ہیں۔ نجی اور سنگل ممبر کمپنیوں کا بڑا حصہ چھوٹے و درمیانے کاروبار، اسٹارٹ اپس اور انفرادی بانیوں کی پسند کی قانونی ساخت کو ظاہر کرتا ہے۔
جغرافیائی تقسیم میں پنجاب 2,547 نئی کمپنیوں، یعنی 53 فیصد حصے کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا۔ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں 843 یا 18 فیصد، سندھ میں 702 یا 15 فیصد، خیبرپختونخوا میں 407، گلگت بلتستان میں 151 اور بلوچستان میں 111 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام آباد میں ماہانہ اندراجات سندھ سے زیادہ رہیں اور رپورٹ کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ تجارتی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شعبوں میں نئی کمپنیاں تھیں۔ صوبائی اعداد رجسٹرڈ پتے کی نمائندگی کرتے ہیں؛ کسی کمپنی کی تمام سرگرمیاں لازماً اسی خطے تک محدود نہیں ہوتیں۔
شعبہ وار انفارمیشن ٹیکنالوجی 872 نئی کمپنیوں کے ساتھ سرفہرست رہی۔ اس سے ڈیجیٹل خدمات، سافٹ ویئر، ٹیکنالوجی سے متعلق کاروبار اور آن لائن ماڈلز میں کمپنی سازی کی رفتار کا اندازہ ہوتا ہے۔ تاہم صرف انکارپوریشن کی تعداد سے شعبے کی برآمدات، سرمایہ کاری یا روزگار کا حجم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے فعال کمپنیوں، سالانہ گوشواروں، ٹیکس ریکارڈ، برآمدی آمدن اور افرادی قوت کے علیحدہ اعداد درکار ہوں گے۔
کمپنی رجسٹریشن کاروبار کو الگ قانونی شخصیت، ملکیت اور انتظامی ڈھانچہ فراہم کرتی ہے اور بینکنگ، معاہدوں، سرمایہ کاری اور ریگولیٹری تعمیل کے دروازے کھول سکتی ہے۔ اگلا اہم سوال یہ ہے کہ نئی رجسٹرڈ کمپنیوں میں کتنی باقاعدہ کاروبار شروع کرتی، قانونی گوشوارے جمع کراتی اور کئی سال تک فعال رہتی ہیں۔ ایس ای سی پی کے تازہ اعلان کا قابل تصدیق نتیجہ مجموعی رجسٹریشن کا 311,765 تک پہنچنا، اگست میں 4,761 نئے اندراجات اور تقریباً مکمل آن لائن عمل ہے؛ معاشی اثر کی پیمائش کے لیے مزید عملی کارکردگی کے اعداد ضروری رہیں گے۔




