کوئٹہ میں بلوچستان حکومت نے کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ N-25 کے بعض حساس مقامات پر ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ ڈان کے مطابق صوبائی محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن میں سوراب، خضدار اور وڈھ کی حدود میں شناخت کیے گئے مقامات پر یہ پابندی تین ماہ تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت نے اقدام کی وجہ قومی شاہراہ پر احتجاج، دھرنوں اور عوامی اجتماعات کے باعث بار بار ہونے والی ٹریفک بندش کو قرار دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایسی بندشوں سے مسافروں، ٹرانسپورٹرز، مریضوں، تاجروں اور عام شہریوں کو مشکلات پیش آتی رہی ہیں۔ صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہوں پر آمدورفت جاری رکھنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

دفعہ 144 انتظامیہ کو مخصوص حالات میں اجتماعات یا ایسی سرگرمیوں پر عارضی پابندیاں لگانے کا اختیار دیتی ہے جنہیں امن عامہ یا عوامی سہولت کے لیے خطرہ سمجھا جائے۔ موجودہ حکم پورے بلوچستان میں عمومی پابندی کے بجائے N-25 کے نامزد حساس مقامات اور متعلقہ اضلاع کی حدود سے منسلک بتایا گیا ہے۔ اس لیے پابندی کی عملی حدود نوٹیفکیشن میں مقرر کردہ مقامات اور شرائط کے مطابق دیکھی جائیں گی۔

حکام نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو دفعہ 144 پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت کے مطابق شاہراہ کی بندش خاص طور پر مریضوں اور طویل فاصلے کے مسافروں کے لیے سنگین مسائل پیدا کرتی ہے، جبکہ تجارتی سامان کی نقل و حمل متاثر ہونے سے کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔

یہ اقدام احتجاج یا اجتماع سے متعلق بنیادی حقوق اور عوامی شاہراہ پر آزادانہ آمدورفت کے درمیان انتظامی توازن کا معاملہ بھی پیدا کرتا ہے۔ پابندی تین ماہ کے لیے مقرر کی گئی ہے، اس لیے اس دوران انتظامیہ کے نفاذ اور کسی ممکنہ قانونی چیلنج یا نظرثانی کی صورت حال اہم ہوگی۔ فی الحال سرکاری مؤقف یہ ہے کہ پابندی کا مقصد N-25 پر مسلسل ٹریفک یقینی بنانا اور بار بار کی بندشوں سے عوام کو پہنچنے والی مشکلات کم کرنا ہے۔