راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر، نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع گوادر میں سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 10 دہشت گرد ہلاک کیے گئے اور آپریشن مکمل کرلیا گیا۔ فوجی بیان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔ یہ اعداد و تفصیلات سرکاری فوجی بیان پر مبنی ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیاں انٹیلی جنس اور سکیورٹی معلومات کی بنیاد پر مختلف مقامات پر کی گئیں۔ فورسز نے مشتبہ افراد کی موجودگی کی اطلاع پر علاقے میں آپریشن کیا اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد انہیں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ بیان میں کارروائی کو علاقے میں دہشت گردی کے خطرے کے خلاف جاری مہم کا حصہ قرار دیا گیا۔
گوادر پاکستان کے لیے جغرافیائی اور معاشی لحاظ سے اہم علاقہ ہے، جہاں بندرگاہ، شاہراہوں اور چین پاکستان اقتصادی راہداری سے منسلک منصوبوں کی وجہ سے سکیورٹی انتظامات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ بلوچستان میں مختلف مسلح گروہ ماضی میں سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات، شہریوں اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
فوجی آپریشن سے متعلق فوری معلومات عموماً سکیورٹی اداروں کے بیانات سے سامنے آتی ہیں اور آزادانہ طور پر تمام تفصیلات کی فوری تصدیق ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی۔ اسی لیے ہلاکتوں، شناخت اور مبینہ وابستگی سے متعلق دعووں کو آئی ایس پی آر سے منسوب کرنا ضروری ہے۔ اگر بعد میں پولیس، مقامی انتظامیہ یا دیگر سرکاری ادارے مزید تفصیلات جاری کرتے ہیں تو واقعے کی مکمل تصویر زیادہ واضح ہوسکتی ہے۔
سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں مسلح تشدد کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ گوادر میں آپریشن مکمل ہونے کے باوجود علاقے کی طویل مدتی سکیورٹی کا انحصار صرف فوجی کارروائیوں پر نہیں بلکہ مقامی پولیسنگ، انٹیلی جنس، سرحدی نگرانی اور سیاسی و معاشی اقدامات پر بھی ہوگا۔ تازہ کارروائی میں 10 ہلاکتوں کا سرکاری دعویٰ اس وقت دستیاب بنیادی تصدیق شدہ سرکاری معلومات ہے۔
