اسلام آباد: سینیٹ کی متعلقہ قائمہ کمیٹی نے ملک میں سائبر کرائم شکایات، آن لائن مالی فراڈ، ہراسانی اور ڈیجیٹل جرائم کی تحقیقات سے متعلق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی کارکردگی اور وسائل کا جائزہ لیا ہے۔ اجلاس میں ارکان نے شکایات کی بڑھتی تعداد اور تفتیشی عمل مکمل کرنے میں درپیش عملی مشکلات پر سوالات اٹھائے۔
این سی سی آئی اے کو وفاقی سطح پر سائبر جرائم کی تحقیقات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ڈیجیٹل فراڈ، سوشل میڈیا کے ذریعے ہراسانی، شناخت کے غلط استعمال اور دیگر آن لائن جرائم کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے، جس کے باعث تفتیشی اداروں کو تکنیکی مہارت، ڈیجیٹل فارنزکس اور پلیٹ فارم ڈیٹا تک قانونی رسائی کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔
کمیٹی میں اس امر پر زور دیا گیا کہ صرف شکایت درج کرنا کافی نہیں بلکہ متاثرہ شہری کو مقدمے کی پیش رفت، ثبوت محفوظ کرنے کے طریقہ کار اور قانونی کارروائی کے بارے میں واضح معلومات ملنی چاہئیں۔ ارکان نے ادارے کے افرادی وسائل اور مقدمات کے بوجھ کے درمیان فرق پر بھی توجہ دلائی، کیونکہ محدود تفتیشی عملہ بڑی تعداد میں شکایات نمٹانے کی رفتار کو متاثر کرسکتا ہے۔
آن لائن مالی فراڈ کے معاملات میں بینکوں، ٹیلی کام کمپنیوں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بروقت رابطہ اہم ہوتا ہے۔ رقم کی منتقلی کے بعد فوری کارروائی نہ ہونے کی صورت میں ریکوری مشکل ہوسکتی ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی پلیٹ فارمز سے ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے قانونی طریقہ کار اور وقت دونوں درکار ہوتے ہیں۔
کمیٹی کا جائزہ کسی مخصوص زیر تفتیش شخص کے خلاف جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔ سائبر کرائم شکایات میں الزام، تفتیش اور عدالتی نتیجہ الگ مراحل ہیں، اور ہر مقدمے میں شواہد کی بنیاد پر قانونی ذمہ داری طے ہوتی ہے۔ پارلیمانی نگرانی کا مقصد ادارے کی صلاحیت، جواب دہی اور شہریوں کے لیے شکایت کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ آئندہ پیش رفت بجٹ، بھرتیوں، تکنیکی وسائل اور ادارہ جاتی تعاون سے متعلق حکومتی فیصلوں پر منحصر ہوگی۔

