اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے 765 کلو وولٹ داسو–اسلام آباد ترسیلی لائن منصوبے کی سست رفتار پیش رفت، مالی لاگت اور سامان کی خریداری پر تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ 4 ستمبر 2026 کو سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیرِ صدارت اجلاس میں حکام نے بتایا کہ غیر ملکی ترقیاتی شراکت داروں سے منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 76 ارب روپے موصول ہوئے، جبکہ اب تک 9 ارب روپے سود کی مد میں ادا کیے جا چکے ہیں۔
کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ منصوبے کی فنانسنگ پر 12 فیصد کے مساوی سودی لاگت سامنے آئی ہے اور تعمیر میں تاخیر سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ یہ اعداد اور شرح کمیٹی اجلاس میں پیش کی گئی بریفنگ اور ارکان کے بیانات پر مبنی ہیں۔ ان کا حتمی اکاؤنٹنگ تجزیہ متعلقہ قرض معاہدوں، ادائیگی کے شیڈول اور آڈٹ ریکارڈ سے ہوگا؛ اجلاس کی بحث بذاتِ خود کسی فوجداری ذمہ داری یا کرپشن کا عدالتی ثبوت نہیں ہے۔
منصوبہ چار لاٹس پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد داسو سے بجلی کو اسلام آباد کے مغربی گرڈ تک منتقل کرنے کے لیے انتہائی بلند وولٹیج انفراسٹرکچر تعمیر کرنا ہے۔ اقتصادی امور ڈویژن نے ارکان کو منصوبے کی تجاویز، ٹینڈرنگ، موجودہ جسمانی پیش رفت، درآمد شدہ ہارڈویئر اور پاکستان میں 765 کے وی لائن کے لیے متعارف کرائے جانے والے ٹیسٹنگ طریقوں پر بریفنگ دی۔ کمیٹی نے ہر لاٹ کی سرگرمی، ادائیگی اور تکمیل کے الگ ریکارڈ مانگے۔
پاور ڈویژن کے حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال داسو سے متعلق 19 ارب روپے مانگے گئے تھے، جن میں سے 17 ارب روپے فراہم کیے گئے۔ اجلاس سے چند روز پہلے مزید 12 ارب روپے جاری کیے گئے۔ سینیٹر کامل علی آغا نے سوال کیا کہ نئی رقم کے اجرا اور منصوبے کی موجودہ رفتار کے تناظر میں مزید کتنی سودی لاگت جمع ہوگی۔ دستیاب رپورٹ میں اس سوال کا حتمی عددی جواب شامل نہیں، اس لیے مستقبل کے سود کا کوئی تخمینہ خبر میں ثابت شدہ رقم کے طور پر نہیں دیا جا سکتا۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ درآمد شدہ مواد اور ہارڈویئر سائٹس پر پہنچایا جا رہا ہے جبکہ متعلقہ ٹاوروں اور تعمیراتی حصوں کی پیش رفت اس کے مطابق نظر نہیں آتی۔ چیئرمین نے سوال اٹھایا کہ اگر سامان تعمیر سے پہلے طویل عرصے کے لیے رکھا رہے تو منصوبہ بندی، حفاظت، ذخیرہ کاری اور فنڈز کے مؤثر استعمال کی ذمہ داری کس پر ہوگی۔ حکام کو خریداری، ترسیل، نصب شدہ مقدار اور باقی اسٹاک کی تفصیل فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ داسو ڈیم سے منسلک ترسیلی منصوبے کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم ہے جس میں متعدد وفاقی وزرا شامل ہیں۔ اس کے باوجود سینیٹ کمیٹی نے موجودہ رفتار پر سوال اٹھایا اور پوچھا کہ کیا منصوبہ طے شدہ مدت میں مکمل ہوسکتا ہے۔ نیسپاک سے بھی لاٹس ایک تا چار کی مرحلہ وار سرگرمیوں اور بلنگ و ادائیگی کے طریقۂ کار کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔
ارکان نے پاور سیکٹر میں شفافیت اور معلومات تک رسائی کے معاملات پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔ چیئرمین نے بعض امور کی ایف آئی اے سے تحقیقات کی تجویز دی، تاہم کمیٹی نے متعلقہ محکمے کو پہلے تحریری رابطے اور تفصیلی بریفنگ کا آخری موقع دینے کا فیصلہ کیا۔ اس مرحلے پر تحقیقاتی ادارے کی حتمی کارروائی یا کسی فرد کے خلاف الزام ثابت ہونے کا اعلان نہیں ہوا۔
ترسیلی لائن کی بروقت تکمیل داسو سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی گرڈ تک پہنچانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے؛ بجلی گھر اور ترسیلی ڈھانچے کے شیڈول میں عدم مطابقت سے دستیاب پیداوار کے استعمال اور فنانسنگ دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اگلی اہم پیش رفت کمیٹی کو فراہم کی جانے والی دستاویزات، تازہ جسمانی پیش رفت، فنڈز کے اخراجات، سودی ادائیگیوں کی تصدیق اور ممکنہ احتسابی فیصلے ہوں گے۔




