اسلام آباد: سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اختیارات کی منتقلی نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا عمل روکنے پر زور دیتے ہوئے نجکاری کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کے سامنے پیش کیا جائے۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ سابقہ ہدایات نظر انداز کرتے ہوئے عمل آگے بڑھانے کی صورت میں پارلیمانی کارروائی، بشمول استحقاق کی تحریک، زیر غور آ سکتی ہے۔
ڈان کے مطابق ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں اس بات پر تحفظات ظاہر کیے گئے کہ نجکاری کمیشن تازہ منظوری کے بغیر تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل جاری رکھنا چاہتا ہے۔ کمیٹی کا موقف تھا کہ ڈسکوز ایسے فرائض انجام دے رہی ہیں جن کا صوبائی دائرہ اختیار سے تعلق بنتا ہے، اس لیے متعلقہ آئینی اور بین الصوبائی فورمز کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
کمیٹی نے کہا کہ صوبوں سے متعلق معاملات کو مشترکہ مفادات کونسل میں پیش کرنا ضروری ہے اور نجکاری کے عمل میں شفافیت یقینی بنائی جانی چاہیے۔ اجلاس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی، وفاقی سطح پر برقرار اداروں اور صوبائی یا CCI سے متعلق موضوعات پر قائم وزارتوں اور تنظیموں کی حیثیت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ذیلی کمیٹی نے اس سلسلے میں مختلف سرکاری ڈویژنز اور اداروں سے تعمیلی رپورٹس طلب کر رکھی ہیں۔
سینیٹر گھمرو نے وفاقی حکومت کے حجم اور اخراجات پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ صوبائی یا مشترکہ مفادات کونسل کے دائرہ کار میں آنے والے معاملات پر وفاقی سطح کے انتظامی ڈھانچے کا آئینی جائزہ ہونا چاہیے۔ اجلاس میں کابینہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژنز، آڈیٹر جنرل اور کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے، جبکہ بعض اداروں کے اخراجات کی تفصیلات طلب کی گئیں۔
کمیٹی کی ہدایت بذات خود نجکاری کے کسی حتمی خاتمے کا اعلان نہیں ہے؛ معاملہ اب متعلقہ وفاقی اداروں کے جواب، آئینی طریقہ کار اور ممکنہ طور پر مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے غور سے مشروط ہے۔ اجلاس میں اطلاعات و نشریات سے متعلق بعض اختیارات کی صوبوں کو منتقلی اور پولیس سروس کے آئینی و انتظامی پہلوؤں پر بھی گفتگو ہوئی۔
