اسلام آباد: سینیٹ کی ایک کمیٹی نے جموں و کشمیر اسٹیٹ پراپرٹی کی زمین پر مبینہ طور پر غیر مجاز شادی ہالوں اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ایسے مقامات سیل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے حکام سے کارروائی کا تصویری ثبوت بھی طلب کیا اور کہا کہ سرکاری مہر توڑنے کی صورت میں ایف آئی آر درج کی جائے۔
کمیٹی کے سامنے بریفنگ میں سرکاری زمین پر تعمیرات، متنازع کرایہ داری معاملات، غیر مجاز استعمال اور یوٹیلیٹی کنکشنز سے متعلق کیسز زیر بحث آئے۔ کمیٹی کا مؤقف تھا کہ ریاستی ملکیت کے استعمال کے معاملات میں واضح ریکارڈ، قانونی اجازت اور جواب دہی ضروری ہے، خصوصاً وہاں جہاں رہائشی یا سرکاری مقصد کے لیے مختص زمین کو تجارتی سرگرمی میں استعمال کرنے کا معاملہ سامنے آئے۔
رپورٹ میں شادی ہالوں کے بارے میں ’’غیر مجاز‘‘ ہونے کا معاملہ کمیٹی اور حکام کی کارروائی کے تناظر میں بیان ہوا ہے۔ اس لیے ہر متعلقہ قابض یا آپریٹر کے خلاف حتمی عدالتی جرم ثابت ہونے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ سیل کرنے کی ہدایت ایک انتظامی و پارلیمانی نگرانی کے عمل کا حصہ ہے، جبکہ کسی فوجداری ذمہ داری کا حتمی تعین متعلقہ قانونی کارروائی کے مطابق ہوگا۔
کمیٹی نے خاص طور پر یہ تقاضا کیا کہ سیل کیے گئے مقامات کی تصاویر پیش کی جائیں تاکہ ہدایات پر عملدرآمد کی تصدیق ہو سکے۔ ساتھ ہی مہر توڑنے یا کارروائی کی خلاف ورزی کی صورت میں مقدمہ درج کرنے کی ہدایت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ کمیٹی محض کاغذی احکامات کے بجائے قابل تصدیق نفاذ چاہتی ہے۔
ریاستی املاک کے ایسے معاملات میں بنیادی سوال زمین کی ملکیت، الاٹمنٹ یا کرایہ داری کی قانونی حیثیت اور منظور شدہ استعمال کا ہوتا ہے۔ کمیٹی کی کارروائی سے متعلقہ محکموں پر ریکارڈ واضح کرنے اور غیر مجاز تجارتی استعمال روکنے کا دباؤ بڑھے گا۔ آئندہ پیش رفت میں یہ اہم ہوگا کہ حکام کتنے مقامات پر کارروائی کرتے ہیں، کون سے معاملات قانونی تنازع میں ہیں اور آیا متاثرہ فریق کسی عدالتی یا انتظامی فورم سے رجوع کرتے ہیں۔
