سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (MDCAT) 2026 سے متعلق شکایات کی نئی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے وزارتِ قومی صحت کو ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے پیش کی گئی سابقہ انکوائری کے نتائج پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق PMDC حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ امتحان کے دوران ان کی جانچ میں کوئی بے ضابطگی یا غیر معمولی معاملہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم ارکان نے سوال اٹھایا کہ امیدواروں سے امتحان کے بعد سوالنامے واپس کیوں لے لیے جاتے ہیں اور انہیں اپنے پاس رکھنے یا بعد میں عوامی جانچ کے لیے دستیاب کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔ کمیٹی کے ارکان نے میرٹ کے تحفظ کے لیے سوالات اور امتحانی طریقہ کار میں زیادہ شفافیت کی ضرورت پر زور دیا۔

PMDC نے مؤقف اختیار کیا کہ سوالنامے واپس لینے کا مقصد سوالات کے ذخیرے کو محفوظ رکھنا ہے تاکہ مستقبل میں امتحان دینے والے امیدواروں کو غیر منصفانہ فائدہ نہ ملے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیا اور کہا کہ امتحانی مواد کی حفاظت کے ساتھ امیدواروں کے اعتماد اور آزادانہ جانچ کے تقاضوں میں توازن پیدا کرنا ضروری ہے۔

اجلاس میں بیرونِ ملک میڈیکل تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طلبہ کے لیے MDCAT لازمی قرار دینے کی حالیہ پالیسی بھی زیر بحث آئی۔ رپورٹ کے مطابق یہ شرط بعد میں کمیٹی کی مداخلت کے بعد واپس لے لی گئی تھی۔ اس معاملے نے PMDC کی پالیسی سازی، طلبہ کو پیشگی اطلاع اور قواعد میں تبدیلی کے طریقہ کار سے متعلق سوالات بھی اٹھائے۔

نئی انکوائری کا حکم خود کسی بے ضابطگی کے ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔ PMDC کا موجودہ مؤقف یہی ہے کہ اسے امتحان میں کوئی anomaly نہیں ملی، جبکہ سینیٹ کمیٹی نے شکایات اور شفافیت کے سوالات کی دوبارہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ حتمی نتیجہ وزارتِ صحت کی نئی تحقیقات اور اس کے بعد کمیٹی کے جائزے سے سامنے آئے گا۔

MDCAT پاکستان میں سرکاری اور نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے انتہائی اہم امتحان ہے، اس لیے سوالناموں، میرٹ اور نتائج کے طریقہ کار پر اعتماد ہزاروں امیدواروں کے لیے براہِ راست اہمیت رکھتا ہے۔