اسلام آباد: سینیٹ کی ایک کمیٹی نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے پر ذمہ دار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ واقعے میں 14 نومولود بچوں کی اموات کا معاملہ زیر غور آیا، جس پر کمیٹی نے احتساب اور ذمہ داری کے تعین پر زور دیا۔
ڈان کی 10 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے متعلقہ حکام سے کہا کہ ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جن کی ذمہ داری تفتیش میں سامنے آتی ہے۔ کمیٹی کی ہدایت بذات خود کسی فرد کے مجرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں؛ فوجداری ذمہ داری کا تعین ایف آئی آر، تفتیش، شواہد اور بعد ازاں عدالتی عمل کے ذریعے ہوگا۔
ہسپتالوں میں نرسری اور انتہائی نگہداشت کے شعبے خصوصی حفاظتی انتظامات کے متقاضی ہوتے ہیں کیونکہ وہاں موجود نومولود مریض ہنگامی صورتحال میں خود نقل و حرکت نہیں کر سکتے۔ آگ سے بچاؤ، برقی نظام کی نگرانی، الارم، انخلا کے راستے اور تربیت یافتہ عملہ ایسے شعبوں میں بنیادی حفاظتی تقاضے ہیں۔ تاہم پمز کے اس مخصوص واقعے میں آگ کی حتمی وجہ اور ہر متعلقہ اہلکار کی ذمہ داری تفتیشی نتائج سے ہی طے ہوگی۔
سینیٹ کمیٹی کی مداخلت کا اہم پہلو یہ ہے کہ معاملے کو انتظامی انکوائری تک محدود رکھنے کے بجائے ممکنہ فوجداری ذمہ داری کے زاویے سے بھی دیکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اگر تفتیش میں غفلت، حفاظتی ضابطوں کی خلاف ورزی یا کسی قابل سزا فعل کے شواہد ملتے ہیں تو متعلقہ قانون کے تحت کارروائی آگے بڑھ سکتی ہے۔
واقعے میں 14 نومولود بچوں کی جانوں کا ضیاع متاثرہ خاندانوں کے لیے غیر معمولی سانحہ ہے اور اس نے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ہنگامی تیاری کے معیار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کمیٹی کی ہدایت کے بعد توجہ اس بات پر رہے گی کہ پولیس اور متعلقہ ادارے مقدمے، تفتیش اور ذمہ داری کے تعین کے مراحل کس طرح مکمل کرتے ہیں۔
اس مرحلے پر کسی مخصوص فرد کے خلاف الزام کو ثابت شدہ جرم قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ معتبر نتیجہ وہی ہوگا جو باقاعدہ تفتیش اور عدالتی کارروائی سے سامنے آئے، جبکہ ادارہ جاتی سطح پر حفاظتی خامیوں کی نشاندہی الگ انتظامی جائزے کا حصہ بن سکتی ہے۔




