بلغراد: سربیا کے طویل عرصے سے بااثر سیاسی رہنما الیگزینڈر ووچچ نے ملک کے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں طلبہ کی قیادت والی تحریک کے مقابل شکست تسلیم کر لی ہے۔ ووچچ نے ٹیلی وژن خطاب میں کہا کہ حتمی نتائج ابھی دستیاب نہیں، تاہم دستیاب نمونے کی بنیاد پر یہ واضح ہے کہ ان کا سیاسی کیمپ انتخاب ہار گیا اور ’اسٹوڈنٹ لسٹ‘ کامیاب رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ووچچ نے اندازہ ظاہر کیا کہ طلبہ کی فہرست 250 رکنی پارلیمان میں تقریباً 135 سے 140 نشستیں حاصل کر سکتی ہے، جبکہ ان کے سیاسی کیمپ کو لگ بھگ 105 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ یہ اعداد ابتدائی تخمینے ہیں اور سرکاری حتمی نتائج سے پہلے انہیں قطعی نشستوں کی تقسیم نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ قبل از وقت انتخابات تقریباً دو برس تک جاری رہنے والے طلبہ کے احتجاج کے پس منظر میں ہوئے۔ احتجاج کا آغاز 2024 میں نووی ساد کے ریلوے اسٹیشن پر چھت کا حصہ گرنے سے 16 افراد کی ہلاکت کے بعد ہوا تھا۔ مظاہرین نے بدعنوانی اور حکمرانی کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے، جبکہ ووچچ اور ان کی جماعت نے اپنے خلاف متعدد الزامات کی تردید کی۔ وقت کے ساتھ یہ احتجاج ایک وسیع سیاسی تحریک میں تبدیل ہوا اور طلبہ کی انتخابی فہرست حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن گئی۔
رائٹرز کے مطابق انتخابات میں غیر معمولی دلچسپی دیکھی گئی اور ووٹنگ کی شرح بلند رہی۔ ووچچ کی جانب سے شکست تسلیم کیے جانے کے بعد بلغراد میں طلبہ اور ان کے حامیوں نے جشن منایا۔ سیاسی تبدیلی کی مکمل شکل تاہم حتمی انتخابی نتائج، پارلیمانی نشستوں کی سرکاری تقسیم اور نئی حکومت سازی کے آئینی مراحل کے بعد واضح ہوگی۔
ووچچ 2014 سے سربیا کی سیاست میں مرکزی کردار رہے ہیں، پہلے وزیر اعظم اور پھر صدر کے طور پر۔ ان کی جماعت اور اتحادیوں نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک ملک کی سیاست پر نمایاں اثر رکھا۔ اسی لیے موجودہ انتخاب کو محض حکومت اور اپوزیشن کے معمول کے مقابلے کے بجائے سربیا کے سیاسی توازن میں ممکنہ بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نئی پارلیمان اور ممکنہ حکومت کو داخلی سطح پر بدعنوانی کے خلاف اقدامات، ادارہ جاتی اصلاحات اور تعلیم سے متعلق مطالبات کا سامنا ہوگا۔ خارجہ پالیسی میں بھی سربیا کو یورپی یونین، روس اور چین کے ساتھ اپنے پیچیدہ تعلقات میں توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت ووچچ کی شکست تسلیم کرنے اور طلبہ کی فہرست کو فاتح قرار دینے کے بیان تک محدود ہے، جبکہ حتمی سرکاری نتائج کا انتظار باقی ہے۔

