وزیراعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کرکے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطہ کاری میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے پہلے سے طے شدہ اقتصادی وعدوں اور منصوبوں پر عملی پیش رفت تیز کرنے کی ضرورت بیان کی۔
پاکستان اور آذربائیجان حالیہ برسوں میں توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ پاکستان تیل اور گیس درآمد کرنے والا ملک ہے، جبکہ آذربائیجان توانائی برآمد کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہے۔ دونوں حکومتیں ایل این جی، پیٹرولیم مصنوعات اور توانائی انفراسٹرکچر سمیت مختلف امکانات پر بات کرتی رہی ہیں، تاہم تازہ ملاقات میں کسی نئے مخصوص سپلائی معاہدے کی قیمت یا حجم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
سرمایہ کاری کے شعبے میں آذربائیجان نے پاکستان میں مختلف منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور دونوں ممالک نے تجارت بڑھانے کے لیے کاروباری رابطوں اور سرمایہ کاروں کے تبادلے کی حمایت کی ہے۔ پاکستان معدنیات، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور نجی شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری حاصل کرنے کو اپنی معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان اور آذربائیجان کے سیاسی تعلقات قریبی رہے ہیں اور دونوں ممالک مختلف بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کے بعض اہم قومی معاملات پر حمایت کرتے آئے ہیں۔ بشکیک ملاقات میں اس سیاسی شراکت داری کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنے پر زور نمایاں رہا۔
اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں کیے گئے عمومی اتفاق کو عملی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے وزارتوں، سرکاری کمپنیوں اور نجی شعبے کے درمیان بعد کے معاہدے ضروری ہوتے ہیں۔ تازہ ملاقات نے توانائی اور سرمایہ کاری کو دوطرفہ تعلقات کی ترجیح قرار دیا ہے، لیکن منصوبوں کے حقیقی حجم اور مدت کا تعین آئندہ مذاکرات سے ہوگا۔ پاکستان کے لیے توانائی ذرائع میں تنوع اور آذربائیجان کے لیے جنوبی ایشیا کی بڑی منڈی تک رسائی اس تعاون کے اہم معاشی محرکات ہیں۔




