اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی سرحد پار تجارت کو زیادہ مؤثر بنانے اور تجارتی عمل میں حائل غیرمحصولاتی رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے ٹریڈ فسیلیٹیشن بورڈ قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ سرکاری طور پر جاری تفصیلات کے مطابق بورڈ کی سربراہی خود وزیراعظم کریں گے اور اسے تجارت کی پوری سپلائی چین میں درپیش عملی مسائل پر فیصلوں کا فورم بنایا جائے گا۔
وزیراعظم نے اسلام آباد میں تجارتی سہولت کاری سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ نئی باڈی کا مقصد درآمد و برآمد کے عمل میں مختلف اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانا اور سرحد پار تجارت پر اثر انداز ہونے والی نان ٹیرف رکاوٹوں کو حل کرنا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ملک کی بندرگاہوں کی استعداد بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی بھی ہدایت کی۔
پاکستان کی تجارت میں بندرگاہیں، کسٹمز، سرحدی چوکیوں، نقل و حمل، دستاویزی تقاضوں اور مختلف ریگولیٹری اداروں کا کردار ایک دوسرے سے جڑا ہوتا ہے۔ کسی ایک مرحلے میں تاخیر یا غیر واضح ضابطہ برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کی لاگت اور وقت دونوں بڑھا سکتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ٹریڈ فسیلیٹیشن بورڈ ایسے مسائل کو مجموعی سپلائی چین کے تناظر میں دیکھے گا۔
نان ٹیرف رکاوٹوں میں عمومی طور پر ایسے انتظامی، تکنیکی یا ضابطہ جاتی تقاضے شامل ہو سکتے ہیں جو براہ راست کسٹم ڈیوٹی نہیں ہوتے لیکن تجارت کی رفتار یا لاگت کو متاثر کرتے ہیں۔ تاہم نئے بورڈ کے تحت کن مخصوص رکاوٹوں کو پہلے مرحلے میں ترجیح دی جائے گی، اس کی مکمل تفصیلی فہرست ابتدائی اعلان میں سامنے نہیں آئی۔ اس لیے بورڈ کی عملی کارکردگی اس کے قواعد، رکنیت، فیصلوں کے نفاذ اور اداروں کے درمیان اختیارات کی وضاحت سے زیادہ واضح ہوگی۔
وزیراعظم نے بندرگاہی صلاحیت میں اضافے پر بھی زور دیا، کیونکہ سمندری تجارت میں جہازوں کی ہینڈلنگ، کارگو کلیئرنس اور اندرون ملک نقل و حمل کا وقت مجموعی تجارتی مسابقت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ حکومتی ہدایت کا مقصد بندرگاہوں کو بڑھتے ہوئے تجارتی حجم کے لیے بہتر تیار کرنا بتایا گیا ہے۔
ٹریڈ فسیلیٹیشن بورڈ کا قیام فی الحال ایک منظور شدہ حکومتی انتظامی فیصلہ ہے۔ اس کے نتائج کا اندازہ آئندہ اس بنیاد پر ہوگا کہ کیا تجارتی دستاویزات اور کلیئرنس کا وقت کم ہوتا ہے، ادارہ جاتی رکاوٹیں دور ہوتی ہیں، بندرگاہوں کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے اور کاروباری اداروں کے لیے سرحد پار تجارت کی لاگت اور غیر یقینی کیفیت میں عملی کمی آتی ہے۔




