اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں سرحد پار تجارت کے طریقۂ کار کو بہتر بنانے کے لیے ٹریڈ فسیلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم دفتر کے مطابق شہباز شریف خود اس بورڈ کی سربراہی کریں گے۔ یہ فیصلہ 3 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں تجارت میں سہولت سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔
سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ مجوزہ بورڈ سرحد پار تجارت سے متعلق تمام نان ٹیرف امور پر فیصلے کرے گا اور درآمد و برآمد کی مکمل سپلائی چین میں بہتری کے لیے اداروں کے درمیان رابطہ قائم کرے گا۔ بورڈ کو تجارت کے فروغ کا روڈ میپ تیار کرنے، ٹریڈ فسیلیٹیشن انڈیکس وضع کرنے اور پیش رفت کی نگرانی کا طریقہ کار بنانے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔
وزیراعظم نے ملک کی بندرگاہوں کی استعداد بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے اور مختلف موضوعاتی ورکنگ گروپس بنانے کی ہدایت کی۔ سرکاری تفصیل کے مطابق یہ گروپس بندرگاہی صلاحیت، متعلقہ محکموں میں ہم آہنگی، ریگولیٹری فریم ورک کی پابندی، جہاز پہنچنے سے پہلے دستاویزات اور مال کی کلیئرنس، اور بین الاقوامی تجارت میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی شمولیت پر کام کریں گے۔
اجلاس میں درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے بندرگاہوں پر سامان کی ترسیل، کسٹمز کلیئرنس اور دیگر انتظامی مراحل آسان بنانے کی ہدایت بھی دی گئی۔ حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ جاری اصلاحات کے تحت پورٹ چارجز میں کمی کے بعد بندرگاہوں کے استعمال میں بہتری آئی ہے، جبکہ بحری جہاز کی آمد سے پہلے گڈز ڈیکلریشن جمع کرانے کی سہولت کو مسلسل وسیع کیا جا رہا ہے۔
بورڈ کی منظوری بذاتِ خود تمام تجارتی رکاوٹیں ختم ہونے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک نیا انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کا فیصلہ ہے۔ اس کی عملی افادیت کا انحصار بورڈ کے قواعدِ کار، فیصلوں کے نفاذ، مختلف وفاقی محکموں اور بندرگاہی اداروں کے تعاون، اور ناپے جا سکنے والے اہداف پر ہو گا۔ حکومت نے اجلاس میں کسی حتمی نفاذی مدت یا الگ بجٹ کی تفصیل جاری نہیں کی۔
اجلاس میں قومی غذائی تحفظ، تجارت، اقتصادی امور، خزانہ، بحری امور اور صنعت سے متعلق وفاقی وزرا اور مشیر، وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے اور اعلیٰ سرکاری افسران شریک ہوئے۔ وسیع ادارہ جاتی نمائندگی اس لیے اہم ہے کہ نان ٹیرف رکاوٹیں عموماً کسٹمز، بندرگاہوں، معیار، قرنطینہ، لائسنسنگ اور نقل و حمل سمیت متعدد محکموں سے متعلق ہوتی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نیا بورڈ تجارتی عمل کو تیز، مربوط اور قابلِ نگرانی بنانے میں مدد دے گا۔ تاہم اس دعوے کی کامیابی کا جائزہ آئندہ جاری ہونے والے روڈ میپ، ٹریڈ فسیلیٹیشن انڈیکس، کلیئرنس کے وقت اور لاگت میں حقیقی کمی، اور چھوٹے کاروباروں کی برآمدی شمولیت جیسے عملی نتائج سے لیا جا سکے گا۔




