وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کرکے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی صنعت میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی سلامتی اور مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ سمیت اہم بین الاقوامی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

پاکستان اور ترکیہ حالیہ برسوں میں دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں، بحری جہاز سازی، ایوی ایشن اور تربیتی تعاون کو وسعت دیتے رہے ہیں۔ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے حال ہی میں سہ فریقی دفاعی تعاون کو مستقل ادارہ جاتی شکل دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ بشکیک ملاقات اس نئے دفاعی فریم ورک کے بعد دونوں قیادتوں کے براہ راست رابطے کا اہم موقع تھی۔

اقتصادی شعبے میں دونوں ممالک دوطرفہ تجارت کو موجودہ سطح سے نمایاں طور پر بڑھانے کا ہدف رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے ترک کمپنیوں کو پاکستان میں توانائی، انفراسٹرکچر، کان کنی، تعمیرات، خوراک اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ تاہم ملاقات میں کسی نئے مخصوص منصوبے یا سرمایہ کاری رقم کے حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے فلسطین اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی اپنے مؤقف کا تبادلہ کیا۔ پاکستان اور ترکیہ دونوں فلسطینی ریاست کے قیام اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ موجودہ ایران امریکا جنگ کے تناظر میں علاقائی کشیدگی، تیل کی رسد اور تجارتی راستوں کی حفاظت بھی دونوں ممالک کے لیے اہم موضوع ہے۔

پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات سیاسی اور دفاعی سطح پر قریبی رہے ہیں، لیکن دونوں حکومتیں معاشی تعلقات کو بھی اسی سطح تک لے جانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بشکیک میں ہونے والی ملاقات نے دفاعی صنعت اور تجارت کو دوطرفہ شراکت داری کے اہم ستون کے طور پر دوبارہ نمایاں کیا ہے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار متعلقہ وزارتوں، نجی کمپنیوں اور مکہ دفاعی اتحاد کے نئے ادارہ جاتی ڈھانچے کے تحت ہونے والے عملی فیصلوں پر ہوگا۔