اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی معاشی حکمت عملی میں برآمدات پر مبنی نمو کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے کاروباری اور صنعتی برادری سے برآمدات بڑھانے، درپیش رکاوٹوں کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے تجاویز طلب کی ہیں۔ اسلام آباد میں کاروباری رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے نزدیک آئندہ معاشی توسیع کا قابل عمل راستہ برآمدی نمو ہے، کیونکہ ایسی ترقی جو بیرونی آمدن اور پیداواری صلاحیت میں مستقل اضافہ نہ کرے طویل مدت میں پائیدار نہیں رہتی۔

وزیراعظم نے کہا کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی اور ستمبر کے مرحلے پر حکومت نجی شعبے سے یہ جاننا چاہتی ہے کہ برآمدات میں اضافہ کس طرح ممکن ہے، کون سی عملی مشکلات کاروبار کو درپیش ہیں اور پالیسی یا انتظامی سطح پر کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے برآمد کنندگان کو دی گئی بعض ٹیکس سہولتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بجٹ سے قبل بھی کاروباری برادری کے ساتھ متعدد مشاورتی اجلاس کر چکی ہے۔

شہباز شریف کے مطابق گزشتہ ڈھائی برس میں بعض طویل عرصے سے زیر التوا ساختی اصلاحات پر کام کیا گیا اور نفاذی اقدامات کے ذریعے ایک سال میں 800 ارب روپے کی وصولی کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران نئے ٹیکس عائد نہیں کیے گئے۔ وزیراعظم نے حکومتی اداروں اور کاروباری برادری کے درمیان مشاورت کو اصلاحاتی عمل کا اہم حصہ قرار دیا اور کہا کہ اگلا مرحلہ استحکام کو ایسی نمو میں تبدیل کرنا ہے جس میں نجی شعبہ اور برآمد کنندگان بنیادی کردار ادا کریں۔

حکومت کی برآمدی حکمت عملی کے دیگر حالیہ اقدامات میں مصنوعات اور منڈیوں کو متنوع بنانے کی کوشش، چھ فیصد پائیدار نمو کا ہدف اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے برآمدی کریڈٹ انشورنس شامل ہیں۔ وزیراعظم نے حال ہی میں ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے ذریعے تین ارب روپے کے رسک پول پر مبنی انشورنس سہولت کا بھی خیرمقدم کیا تھا، جس کا مقصد ایس ایم ایز کے لیے برآمدی فنانسنگ تک رسائی آسان بنانا بتایا گیا ہے۔

معاشی پالیسی کے اس رخ کا اصل امتحان برآمدی حجم، نئی منڈیوں تک رسائی، صنعتی لاگت اور نجی سرمایہ کاری کے عملی نتائج میں ہوگا۔ حکومت کا موقف ہے کہ معیشت استحکام کے مرحلے سے نمو کی طرف بڑھ رہی ہے، تاہم حکام خود بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ اس نمو کو پائیدار بنانا بنیادی چیلنج ہے۔ کاروباری برادری کی تجاویز کے بعد یہ واضح ہوگا کہ حکومت توانائی، ٹیکس، مالیاتی سہولت، ضابطہ کاری اور برآمدی مسابقت سے متعلق مطالبات کو کس حد تک پالیسی میں شامل کرتی ہے۔