وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے موجودہ علاقائی جنگ اور اس کے انسانی و معاشی اثرات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کیا اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کے مطابق پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے دوران خطے میں مزید فوجی کشیدگی سے بچنے کا مؤقف اپنایا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ تنازع کے پھیلاؤ سے مشرق وسطیٰ کے ساتھ جنوبی ایشیا کی توانائی، تجارت، فضائی رابطوں اور مجموعی معاشی استحکام پر بھی سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے تیل کی رسد میں خلل کے خدشات پہلے ہی عالمی خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر چکے ہیں۔

وزیراعظم نے ایرانی صدر کو پاکستان کی جانب سے سیاسی اور سفارتی سطح پر تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔ سرکاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ پاکستان اور ایران طویل سرحد کے ساتھ تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی اور مذہبی و ثقافتی روابط رکھتے ہیں، اس لیے جنگ کے اثرات پاکستان کے لیے براہ راست اہمیت رکھتے ہیں۔

پاکستان کی پالیسی میں ایک طرف ایران کے ساتھ یکجہتی اور دوسری طرف تنازع کو سفارتی ذرائع سے ختم کرنے پر زور شامل ہے۔ اسلام آباد نے اس بحران میں کسی وسیع علاقائی جنگ سے بچنے اور بین الاقوامی اداروں کو فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت بیان کی ہے۔ جنگ کے مختلف فریق ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کرتے ہیں، اس لیے مخصوص فوجی دعوؤں اور واقعات کو ان کے متعلقہ ذرائع سے منسوب کرنا ضروری ہے۔

وزیراعظم اور ایرانی صدر کا رابطہ ایسے وقت ہوا ہے جب عالمی تیل، شپنگ اور فضائی سفر پر جنگ کے اثرات بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے توانائی درآمدات کی قیمت میں اضافہ، خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت اور علاقائی تجارت اہم خدشات ہیں۔ فون کال کسی جنگ بندی معاہدے کی نشاندہی نہیں کرتی، مگر پاکستان کی جانب سے سفارتی رابطے جاری رکھنے اور بحران کے سیاسی حل کی حمایت کا تازہ اظہار ہے۔