پشاور: وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان پشاور کے گورنر ہاؤس میں سکیورٹی، ترقی، پولیس تربیت اور انتظامی امور سے متعلق اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد کیا گیا۔ صوبائی اطلاعاتی مشیر سمر ہارون بلور کے مطابق پیکیج کا بڑا حصہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے مختص کیا جائے گا، جبکہ باقی وسائل صوبے کے دیگر اضلاع میں ترقیاتی ضروریات پر خرچ ہوں گے۔
وزیراعظم نے ایریا ڈیولپمنٹ کونسل اور قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر معمولی قربانیاں دی ہیں اور ان علاقوں میں امن کے ساتھ ساتھ ترقیاتی خلا کو پُر کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے میں بنیادی سہولتوں، تعلیم، فنی تربیت اور امن و امان سے متعلق ضروریات پوری کرنے کے لیے تعاون کرے گی۔
صوبائی حکام کے مطابق مجوزہ منصوبوں میں باجوڑ، لکی مروت اور چترال میں دانش اسکول قائم کرنے اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک تکنیکی ادارہ بنانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ اسی طرح صوبائی پولیس اور انسداد دہشت گردی محکمے کی عملی صلاحیت بڑھانے، جدید سازوسامان اور ضروری وسائل فراہم کرنے کو ترجیحی ایجنڈے میں رکھا گیا ہے۔
اسی روز وزیراعظم نے نیشنل ایکشن پلان سے متعلق وفاقی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، اعلیٰ فوجی قیادت اور متعلقہ اداروں کے حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں دہشت گردی کے خاتمے، پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد اور متاثرہ علاقوں میں سماجی و اقتصادی ترقی پر غور کیا گیا۔
160 ارب روپے کے پیکیج کے اعلان کے بعد اصل اثرات کا انحصار منصوبوں کی تفصیلی تقسیم، بجٹ کے اجرا، عمل درآمد کے نظام اور مقررہ مدت میں تکمیل پر ہوگا۔ وفاقی حکومت نے اسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ترقی کو جوڑنے کی کوشش قرار دیا ہے، جبکہ صوبے کے متاثرہ اضلاع میں عوامی توقعات بنیادی سہولتوں، روزگار اور امن کی عملی بہتری سے وابستہ رہیں گی۔

