بلوچستان کے ضلع شیرانی میں بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کے تحت منظور کیے گئے 116 ترقیاتی منصوبوں میں سے 115 مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کی 13 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ منصوبے اسکیم کے فیز I اور فیز II میں منظور کیے گئے تھے اور ان کے لیے 689 ملین روپے سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی تھی۔

سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان منصوبوں کا مقصد ضلع میں بنیادی سہولیات بہتر بنانا اور مقامی آبادی کے معیارِ زندگی میں بہتری لانا ہے۔ تاہم دستیاب اطلاع میں تمام 116 منصوبوں کی الگ الگ فہرست، ہر منصوبے کی لاگت، تکمیل کی تاریخ یا باقی رہ جانے والے واحد منصوبے کی موجودہ حیثیت بیان نہیں کی گئی۔ اسی لیے موجودہ رپورٹ میں صرف ان اعداد و شمار کو شامل کیا گیا ہے جن کی واضح طور پر تصدیق ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایف سی بلوچستان نارتھ نے سول انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کے ساتھ مل کر منصوبوں کی نگرانی اور تکمیل میں کردار ادا کیا۔ یہ بیان سرکاری ماخذ کا ہے؛ منصوبوں کے معیار، استعمال اور مقامی آبادی پر عملی اثرات کی کوئی آزاد جامع جانچ اس اطلاع کے ساتھ جاری نہیں کی گئی۔

بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو صوبے کے مختلف اضلاع میں بنیادی سہولیات سے متعلق منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ رواں سال مئی میں بلوچستان کے چیف سیکریٹری کی زیر صدارت اجلاس کے بارے میں ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے رپورٹ کیا تھا کہ صوبے بھر میں اس اقدام کے تقریباً 70 فیصد منصوبے مکمل ہو چکے تھے جبکہ باقی پر کام جاری تھا۔ اس پس منظر میں شیرانی میں 115 منصوبوں کی تکمیل ضلع کی سطح پر ایک نمایاں پیش رفت کے طور پر رپورٹ کی گئی ہے۔

شیرانی بلوچستان کے ان اضلاع میں شامل رہا ہے جنہیں پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے مختلف وفاقی اور صوبائی پروگراموں میں ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ موجودہ اعداد کے مطابق 116 میں سے صرف ایک منظور شدہ منصوبہ مکمل ہونا باقی ہے، لیکن سرکاری رپورٹ نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ منصوبہ کس شعبے سے متعلق ہے یا اس کی تکمیل کب متوقع ہے۔

ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں حتمی اثرات کا جائزہ صرف تکمیل کی تعداد سے نہیں کیا جا سکتا؛ اس کے لیے منصوبہ وار اخراجات، معیار، عوامی استعمال اور بعد از تکمیل نگرانی کے اعداد و شمار بھی ضروری ہوتے ہیں۔ فی الحال دستیاب مصدقہ معلومات یہ ہیں کہ 115 منصوبے مکمل قرار دیے گئے ہیں، مجموعی طور پر 689 ملین روپے سے زیادہ مختص ہوئے، اور نگرانی میں سول انتظامیہ، منتخب نمائندوں اور ایف سی بلوچستان نارتھ نے حصہ لیا۔