کراچی: سندھ اسمبلی نے صوبے کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی، اس کے کسی حصے سے نیا صوبہ بنانے یا الگ وفاقی و انتظامی بندوبست قائم کرنے کی تجاویز کے خلاف قرارداد منظور کر لی ہے۔ قرارداد پاکستان پیپلز پارٹی کے سندھ کے صدر اور رکن اسمبلی نثار احمد کھوڑو کی جانب سے نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں پر بحث کے بعد پیش کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایوان میں کہا کہ صوبے کی جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کے قیام پر دوبارہ بحث شروع ہوئی ہے اور بعض تجاویز سندھ کی موجودہ علاقائی حدود کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ایوان نے کسی بھی نام یا شکل میں ایسے منصوبے، آئینی انتظام یا تجویز کو مسترد کیا جس سے سندھ تقسیم ہو، اس کی حدود تبدیل ہوں یا اس کے کسی حصے پر الگ انتظامی ڈھانچہ قائم کیا جائے۔ قرارداد میں وفاقی حکومت، پارلیمان، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں سے صوبے کے عوام کی جمہوری رائے کا احترام کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے آئین کے آرٹیکل 239 کی شق چار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی صوبے کی حدود بدلنے والی آئینی ترمیم متعلقہ صوبائی اسمبلی کی مجموعی رکنیت کے کم از کم دو تہائی ووٹ کے بغیر صدر کو توثیق کے لیے پیش نہیں کی جا سکتی۔ ان کا مؤقف تھا کہ سندھ کی منتخب اسمبلی کی رضامندی کے بغیر صوبائی حدود میں تبدیلی ناقابل قبول ہوگی۔ قرارداد میں صوبائی حکومت سے کہا گیا کہ اس کی سرکاری نقل صدر مملکت، وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو بھیجی جائے۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور جماعت اسلامی کے اراکین قرارداد پیش ہونے سے پہلے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے کہا کہ ان کی جماعت صوبے کی تقسیم کی حامی نہیں، تاہم اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مضبوط مقامی حکومتوں کے حق میں ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے مؤقف اپنایا کہ ان کی جانب سے انتظامی اکائیوں اور اختیارات کی منتقلی سے متعلق تجویز کردہ نکات قرارداد میں شامل نہیں کیے گئے، اس لیے انہوں نے کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ تحریک انصاف کے اراکین قرارداد پیش ہونے کے وقت ایوان میں موجود نہیں تھے۔
حکومت اور اپوزیشن کے مؤقف میں بنیادی فرق یہ رہا کہ پیپلز پارٹی نے نئی انتظامی اکائیوں کی زبان کو بھی صوبے کی ممکنہ تقسیم سے جوڑا، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان اور جماعت اسلامی نے اسے شہری انتظام، بلدیاتی خودمختاری اور خدمات کی فراہمی کے تناظر میں پیش کیا۔ اس اختلاف کے باوجود اپوزیشن نے اپنے بیانات میں سندھ کو الگ صوبوں میں تقسیم کرنے کی حمایت سے انکار کیا۔
قرارداد کی منظوری خود کوئی آئینی ترمیم نہیں اور اس سے صوبائی حدود میں قانونی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ یہ سندھ اسمبلی کا سیاسی اور پارلیمانی مؤقف ہے، جو ملک میں نئے صوبوں پر جاری بحث کے جواب میں ریکارڈ پر لایا گیا۔ آئندہ کسی حقیقی آئینی تبدیلی کے لیے قومی پارلیمان میں مقررہ اکثریت اور سندھ اسمبلی کی دو تہائی منظوری سمیت مکمل آئینی طریقۂ کار درکار ہوگا۔




