کراچی: سندھ کابینہ نے سرکاری ذخائر سے گندم جاری کرنے کی قیمت میں 500 روپے فی 40 کلو کمی کرتے ہوئے نئی قیمت 4,500 روپے مقرر کردی ہے۔ فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کراچی میں ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق اس سے پہلے گندم کی اجرا قیمت 5,000 روپے فی 40 کلو تھی۔

گندم کی اجرا قیمت وہ نرخ ہے جس پر حکومت اپنے ذخائر سے فلور ملوں یا متعلقہ خریداروں کو گندم فراہم کرتی ہے۔ اس قیمت میں تبدیلی آٹے کی پیداواری لاگت اور بالآخر صارفین کے لیے خوردہ نرخوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے، تاہم کابینہ کے فیصلے کے فوری بعد آٹے کی کسی مخصوص نئی خوردہ قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے صارفین تک ممکنہ ریلیف کی حتمی مقدار مارکیٹ، ملنگ اور ترسیلی لاگت سمیت دیگر عوامل پر منحصر ہوگی۔

اسی اجلاس میں سندھ میں گنے کی کرشنگ کا سیزن 15 نومبر سے شروع کرنے کی تاریخ بھی مقرر کی گئی۔ کرشنگ سیزن کی بروقت شروعات کا تعلق گنے کے کاشتکاروں سے فصل کی خرید، شوگر ملوں کی سرگرمی اور چینی کی مقامی رسد سے ہوتا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ تاریخ ملوں اور کسانوں دونوں کے لیے آئندہ سیزن کا عملی شیڈول واضح کرتی ہے۔

کابینہ نے موجودہ مالی سال کے دوران ضلع جامشورو میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور رورل ڈیولپمنٹ کی پانچ اسکیموں کے لیے 502 ملین روپے سے زائد کی اضافی گرانٹ کی بھی منظوری دی۔ سرکاری رپورٹ میں ان اسکیموں کی انفرادی لاگت یا تکمیل کی نئی مدت کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی، اس لیے منظور شدہ رقم کو مجموعی اضافی گرانٹ کے طور پر رپورٹ کیا گیا ہے۔

صوبائی کابینہ نے ہندو برادری کے لیے دیوالی کے موقع پر پیر کو عام تعطیل کا اعلان بھی کیا۔ یہ فیصلہ کابینہ اجلاس میں گندم، زرعی سیزن اور ترقیاتی اخراجات سے متعلق فیصلوں کے ساتھ کیا گیا۔

گندم کی قیمت سے متعلق فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وفاقی سطح پر بھی نئی قومی گندم پالیسی اور اسٹریٹجک ذخائر سے متعلق اقدامات زیر بحث ہیں۔ تاہم سندھ کابینہ کا موجودہ فیصلہ صوبائی سرکاری ذخائر کی اجرا قیمت سے متعلق ہے اور اسے وفاقی امدادی قیمت یا کسی الگ خریداری نرخ کے ساتھ خلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ آئندہ دنوں میں فلور ملوں اور خوردہ منڈی میں قیمتوں کا ردعمل اس فیصلے کے عملی اثرات کو زیادہ واضح کرے گا۔