کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی فش ہاربر کی سکیورٹی کے جامع جائزے کے بعد وہاں الگ پولیس اسٹیشن قائم کرنے، پولیس نفری بڑھانے اور بندرگاہ استعمال کرنے والے تمام افراد کی لازمی بایومیٹرک رجسٹریشن کا حکم دیا ہے۔ فش ہاربر کو اہم تنصیب کی اعلیٰ سکیورٹی درجہ بندی حاصل ہے، تاہم حکام نے اجلاس میں رسائی کے کمزور نظام اور سکیورٹی اہلکاروں کی کمی کی نشاندہی کی۔
وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ تقریباً 84 ایکڑ پر پھیلے فش ہاربر میں روزانہ لگ بھگ 20 ہزار افراد کی آمدورفت ہوتی ہے۔ ماہی گیر، نیلامی ایجنٹ، مچھلی فروش، مزدور، ٹرانسپورٹر، سی فوڈ پروسیسرز اور دیگر افراد مختلف اوقات میں بندرگاہ استعمال کرتے ہیں۔ موجودہ نظام میں تمام افراد کی مؤثر جانچ اور ڈیٹا کی تکمیل نہ ہونے کے باعث سکیورٹی اور انتظامی نگرانی میں خلا موجود ہے۔
اجلاس میں ستمبر میں ہونے والے ایک فائرنگ واقعے کا بھی حوالہ دیا گیا، جو سڑک کنارے مچھلی اتارنے اور رکھنے کے تنازع سے شروع ہوا تھا اور جس میں ایک شخص ہلاک اور چھ زخمی ہوئے تھے۔ وزیراعلیٰ نے حکم دیا کہ مچھلی اتارنے اور نیلامی کا عمل صرف مقررہ مقامات پر ہو، سڑکوں اور ریڈ زون سے تجاوزات ختم کی جائیں اور برف فروشوں سمیت کاروباری سرگرمیوں کو منظم کیا جائے۔
کراچی فش ہاربر کی بحالی و مرمت کی 2.779 ارب روپے کی اسکیم کی پیش رفت بھی اجلاس میں زیر غور آئی۔ حکام نے بتایا کہ بعض سول ورکس میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن سی سی ٹی وی نظام کی تکمیل صرف پانچ فیصد تک پہنچی ہے اور متعدد آف شور و متعلقہ کاموں پر عملی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ وزیراعلیٰ نے خاص طور پر سی سی ٹی وی نگرانی، اسٹریٹ لائٹنگ اور سکیورٹی کنٹرول روم کے کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔
مراد علی شاہ نے تمام ہاربر صارفین کی رجسٹریشن مکمل کرنے اور مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کا حکم بھی دیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ہزاروں کشتیاں رجسٹرڈ ہیں اور گزشتہ برسوں میں بڑی تعداد میں عملے کے کارڈ جاری کیے گئے، تاہم مختلف اداروں کے ڈیٹا کو مکمل طور پر مربوط کرنا ابھی باقی ہے۔
وزیراعلیٰ نے سی فوڈ برآمد کنندگان کی نگرانی، مچھلی کی مقدار کے ریکارڈ اور برآمدی ٹریس ایبلٹی بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی تاکہ ممکنہ مالی بے ضابطگیوں اور آمدنی کے نقصان کی جانچ کی جاسکے۔ ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار پولیس، محکمہ ماہی گیری، فش ہاربر اتھارٹی اور دیگر اداروں کے درمیان عملی رابطے اور زیر التوا ترقیاتی کاموں کی بروقت تکمیل پر ہوگا۔
