کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عالمی بینک کی مالی معاونت سے صوبے میں جاری 12 منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ محکموں اور پراجیکٹ ٹیموں کو عملدرآمد تیز کرنے، زیر التوا معاملات نمٹانے اور طے شدہ اہداف پورے کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈان کے مطابق ان منصوبوں کی مجموعی مالیت 3.849 ارب ڈالر ہے اور جائزہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کی موجودگی میں ہوا۔

وزیراعلیٰ ہاؤس کے بیان کے مطابق زیر جائزہ 12 فعال منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 3.849 ارب ڈالر مختص ہیں، جن میں سے 2.334 ارب ڈالر جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ 1.511 ارب ڈالر ابھی غیر جاری شدہ ہیں۔ اجلاس میں مالی پیش رفت، خریداری کے عمل اور مختلف منصوبوں کو درپیش انتظامی رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا۔ رواں مالی سال 2026-27 کے لیے 381.2 ملین ڈالر کے اجرا کا ہدف رکھا گیا ہے جبکہ توسیعی ہدف 434.2 ملین ڈالر بتایا گیا؛ اب تک 43.2 ملین ڈالر جاری ہونے کی اطلاع دی گئی۔

اجلاس میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پراجیکٹ کے دوسرے مرحلے پر بھی غور ہوا، جس کی مالیت 240 ملین ڈالر ہے۔ اس کے تحت کے فور سے متعلق سہولیات کے ماحولیاتی اور سماجی دستاویزات عالمی بینک کو کلیئرنس کے لیے بھیجے جانے اور تعمیل کی نگرانی جاری رہنے کی اطلاع دی گئی۔

کراچی موبیلٹی پراجیکٹ کے تحت یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ کوریڈور، جام صادق پل اور بس ڈپو سے متعلق پیش رفت بھی زیر بحث آئی۔ وزیراعلیٰ نے محکموں کو ہدایت کی کہ وہ زیر التوا اقدامات کی ذمہ داری لیں اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط کریں تاکہ ترقیاتی سرمایہ کاری عوامی خدمات میں عملی بہتری کا سبب بنے۔

یہ اعداد و شمار اور پیش رفت وزیراعلیٰ ہاؤس کی بریفنگ پر مبنی ہیں۔ منصوبوں کے حتمی نتائج کا انحصار تعمیراتی پیش رفت، خریداری، فنڈز کے اجرا اور مقررہ اہداف کی تکمیل پر ہوگا، اس لیے موجودہ جائزہ کو عملدرآمد کی نگرانی کا مرحلہ سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ تمام منصوبوں کی تکمیل کا اعلان۔