خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند میں جاری پولیو مہم کے دوران سکیورٹی ڈیوٹی پر جانے والے پولیس اہلکاروں پر مسلح حملے میں دو اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ منگل کو تحصیل پنڈیالی کے علاقے ڈاگ تمانزئی میں ہاشم کور پولیس چیک پوسٹ کے قریب پیش آیا، جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے اہلکاروں پر فائرنگ کی۔

ہیڈکوارٹرز کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس لیاقت علی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اہلکار پولیو ٹیم کے ساتھ سکیورٹی ذمہ داری انجام دینے جا رہے تھے۔ شہید ہونے والے اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل ظہور خان اور اربائی خان کے نام سے ہوئی، جبکہ سپاہی صابر خان زخمی ہوئے۔ فوری طور پر کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، اس لیے حملہ آوروں کی شناخت یا وابستگی کے بارے میں قیاس آرائی سے گریز ضروری ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب ملک کے 97 ہائی رسک اضلاع میں ذیلی قومی پولیو ویکسینیشن مہم جاری ہے، جس میں تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو بعض علاقوں میں سکیورٹی خطرات، ٹیموں تک رسائی اور ویکسین سے متعلق غلط معلومات جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔

اسی دوران خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں چار پولیو کارکنوں کے اغوا کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے متعلقہ حکام کو ان کارکنوں کی محفوظ بازیابی کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ پولیس کے مطابق اغوا کا واقعہ پیر کو پیش آیا تھا۔ گورنر نے پولیو کارکنوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ٹیموں کو سکیورٹی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی مقامی سطح پر موجود ہے۔ پاکستان میں رواں سال پولیو کے آٹھ کیس رپورٹ ہونے کی اطلاع دی گئی ہے، جن میں چھ خیبرپختونخوا اور دو سندھ سے سامنے آئے۔ خیبرپختونخوا کے کیسوں میں چار بنوں ڈویژن سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

حالیہ حملہ پولیو مہم سے وابستہ سکیورٹی خطرات کی ایک اور مثال ہے۔ ستمبر میں بلوچستان کے نوشکی میں پولیو ٹیم پر حملے کے دوران دو پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے، جبکہ اپریل میں ہنگو میں پولیو ٹیموں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے جانے والی قانون نافذ کرنے والی پارٹی پر حملے میں ایک کانسٹیبل شہید اور چار اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ حکام کے لیے چیلنج یہ ہے کہ ویکسینیشن کا دائرہ برقرار رکھتے ہوئے کارکنوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جائے۔