کوئٹہ: بلوچستان کے 31 اضلاع میں سات روزہ انسداد پولیو مہم شروع کر دی گئی ہے، جس کے دوران پانچ سال سے کم عمر تقریباً 22 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کے حکام کے مطابق مہم کے لیے 8 ہزار 880 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو گھروں، ٹرانزٹ پوائنٹس اور دیگر مقررہ مقامات پر بچوں تک رسائی حاصل کریں گی۔

ای او سی بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق نے مہم کے آغاز پر کہا کہ افغانستان میں رواں سال پولیو وائرس کے متعدد کیس رپورٹ ہونے کے باعث سرحدی اضلاع میں نگرانی اور ویکسینیشن کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ بلوچستان کی طویل سرحد افغانستان سے ملتی ہے اور سرحد پار آمدورفت وائرس کی منتقلی کے خطرے کو برقرار رکھتی ہے۔ اسی لیے چمن، قلعہ عبداللہ اور دیگر حساس علاقوں میں بچوں کی ویکسینیشن اور ماحولیاتی نگرانی پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق بلوچستان میں تقریباً دو سال سے پولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، جو انسداد پولیو ٹیموں اور والدین کے تعاون کا مثبت نتیجہ سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم پاکستان اور افغانستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس کی مقامی منتقلی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اس وجہ سے کسی ایک صوبے یا ضلع میں کیس نہ ہونے کے باوجود ویکسینیشن مہم روکنا ممکن نہیں۔

مہم کے دوران سکیورٹی انتظامات بھی کیے گئے ہیں کیونکہ بلوچستان میں ماضی میں پولیو ٹیموں اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو حملوں کا سامنا رہا ہے۔ حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر مہم میں اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں، خواہ بچے نے پہلے بھی متعدد بار پولیو ویکسین لی ہو۔ بار بار خوراک دینا وائرس کے پھیلاؤ والے ماحول میں بچوں کی قوت مدافعت برقرار رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

انسداد پولیو پروگرام کے لیے صرف ہدف پورا کرنا کافی نہیں؛ اصل چیلنج ایسے بچوں تک پہنچنا ہے جو نقل مکانی، انکار، سکیورٹی حالات یا ٹیموں کی رسائی میں مشکلات کے باعث مہم سے رہ جاتے ہیں۔ سرحدی اور شہری آبادیوں میں مسلسل نقل و حرکت کی وجہ سے مسڈ چلڈرن کی نشاندہی اور بعد از مہم فالو اپ بھی اہم ہوگا۔

حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران کیس نہ آنے کے باوجود خطرہ ختم نہیں ہوا۔ افغانستان میں وائرس کی موجودگی اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں ماحولیاتی نمونوں یا کیسز کی صورت حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ صوبے میں ویکسینیشن، نگرانی اور فوری ردعمل کا نظام مسلسل فعال رکھا جائے۔