کراچی: سندھ حکومت نے ایم اے جناح روڈ پر واقع آتش زدہ گل پلازا کی مخدوش عمارت گرانے کے فیصلے پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے اور انہدام کے کام کے لیے اہل کمپنیوں سے تکنیکی اور مالی بولیاں طلب کی گئی ہیں۔ سرکاری اعلان کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اس پورے عمل کی نگرانی کرے گی اور دلچسپی رکھنے والی فرمیں 20 نومبر تک اپنی تجاویز جمع کرا سکتی ہیں۔
یہ اقدام اس تکنیکی جائزے کے بعد کیا جا رہا ہے جس میں عمارت کو استعمال کے قابل نہ رہنے کی بنا پر منہدم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ گل پلازا کراچی کے بڑے اور پرانے تجارتی مراکز میں شمار ہوتا تھا اور 8,128 مربع گز رقبے پر قائم اس کمپلیکس میں سیکڑوں کاروباری یونٹس موجود تھے۔ جنوری 2026 میں لگنے والی شدید آگ نے عمارت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا اور کئی روز تک آگ بجھانے کی کارروائی جاری رہی۔
ڈان کے مطابق اس سانحے میں 72 افراد جان سے گئے جبکہ 1,153 سے زیادہ دکانیں تباہ ہوئیں، جس سے تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ واقعے کے بعد شہر کی گنجان تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی، ہنگامی ردعمل اور عمارتوں کے حفاظتی معیار سے متعلق سوالات بھی شدت سے سامنے آئے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی کمیٹی نے تباہ شدہ ڈھانچے کا معائنہ کرنے کے بعد اسے گرانے کی سفارش کی تھی۔ اب بولیوں کی طلبی کے ساتھ حکومت نے اس سفارش کو عملی مرحلے میں منتقل کر دیا ہے۔ انہدام کے دوران اطراف کے مصروف تجارتی علاقے، ٹریفک اور ملحقہ عمارتوں کی حفاظت بھی اہم انتظامی پہلو ہوں گے۔
فی الحال سرکاری اعلان کا مرکزی نکتہ انہدام کے لیے کمپنی کے انتخاب کا عمل ہے۔ بولیوں کی جانچ اور کنٹریکٹر کے انتخاب کے بعد ہی عملی انہدام کے شیڈول اور طریقہ کار کی مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔
