مہمند: خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں انسداد پولیو مہم کے دوران سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور پولیس ٹیم پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو اہلکار جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔ ریسکیو 1122 کے مطابق واقعہ تحصیل پنڈیالی کے علاقے تمن زئی میں پیش آیا، جہاں پولیس اہلکار گھر گھر پولیو ویکسین پلانے والے کارکنوں کی حفاظت کے لیے تعینات تھے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق جاں بحق اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل ظہور اور فضل ربی کے نام سے ہوئی، جبکہ کانسٹیبل صابر فائرنگ میں زخمی ہوا۔ زخمی اہلکار کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں فوری طور پر مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں، اس لیے واقعے کی ذمہ داری کسی گروہ سے منسوب نہیں کی گئی۔

صدر آصف علی زرداری نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق اہلکاروں کے خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمی اہلکار کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کی ذمہ داری کو قومی خدمت قرار دیا۔

یہ واقعہ ملک کے 97 منتخب اضلاع میں جاری ذیلی قومی پولیو ویکسینیشن مہم کے دوسرے روز پیش آیا۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق 2 سے 8 نومبر تک جاری مہم میں تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو ویکسین پلانے کا ہدف مقرر ہے اور دو لاکھ سے زیادہ پولیو کارکن گھر گھر مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ پہلے روز 66 لاکھ 83 ہزار سے زیادہ بچوں کو ویکسین پلانے کی اطلاع دی گئی۔

سرکاری اعداد کے مطابق پنجاب کے 13 منتخب اضلاع میں 25 لاکھ سے زیادہ، سندھ کے 20 اضلاع میں تقریباً 19 لاکھ 72 ہزار اور خیبر پختونخوا کے 27 اضلاع میں 13 لاکھ 72 ہزار سے زیادہ بچوں کو پہلے روز قطرے پلائے گئے۔ بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے منتخب علاقوں میں بھی مہم جاری رہی۔

پولیو ٹیموں اور ان کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں پر حملے پاکستان کی انسداد پولیو کوششوں کے لیے مسلسل سکیورٹی چیلنج رہے ہیں۔ تازہ واقعے میں تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔