کراچی: سندھ حکومت نے لوکل گورنمنٹ قانون میں ترامیم نافذ کرتے ہوئے بلدیاتی اداروں کے لیے نگراں یا آزاد انتظامی سیٹ اپ کا نظام ختم کر دیا ہے۔ نئے قانونی بندوبست کے تحت کسی بلدیاتی کونسل کی مدت مکمل ہونے کے بعد سبکدوش ہونے والا میئر یا چیئرمین نئے منتخب میئر یا چیئرمین کے عہدہ سنبھالنے تک ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے کونسل کے اختیارات اور فرائض انجام دیتا رہے گا۔

یہ تبدیلی سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں 2026 کی ترمیم کے بعد سامنے آئی ہے۔ صوبائی اسمبلی سے منظوری اور گورنر کی توثیق کے بعد ترمیمی قانون کو سرکاری گزٹ میں شائع کیا جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں نئی دفعات نافذ العمل ہیں۔ قانون کے مطابق حکومت کسی کونسل کی مدت ختم ہونے سے 120 دن پہلے الیکشن کمیشن کو تازہ انتخابات کے انعقاد کے لیے درخواست بھیجے گی۔

ترمیم شدہ قانون نے بلدیاتی اداروں کی انتظامی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق مقامی حکومت کے نمائندوں اور پولیس کو امن و امان اور عوامی تحفظ سے متعلق معاملات میں باہمی رابطہ رکھنا ہوگا، تاہم فوجداری مقدمات کی تفتیش اور پراسیکیوشن سے متعلق پولیس کے موجودہ قانونی اختیارات برقرار رہیں گے۔

نئی دفعات میں خواتین کو بااختیار بنانے اور معذور افراد کی فلاح سے متعلق ذمہ داریاں بھی شامل کی گئی ہیں۔ بلدیاتی کونسلوں کو خواتین کی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات پر سہ ماہی رپورٹیں تیار کرنا ہوں گی، جبکہ معذور افراد کی فلاح اور بنیادی سہولتوں تک ان کی رسائی کے لیے اقدامات بھی مقامی اداروں کی ذمہ داریوں میں شامل ہوں گے۔

یونین کونسلوں کو متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کچرا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کے معاملات کی نگرانی کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔ اسی طرح غیر قانونی تعمیرات یا بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرکے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو اطلاع دینا بھی ان کے فرائض میں شامل ہوگا۔

اس قانونی تبدیلی کا اہم عملی اثر بلدیاتی اداروں کے انتقالِ اقتدار کے مرحلے پر پڑے گا، کیونکہ اب مدت ختم ہونے اور نئے منتخب نمائندوں کے عہدہ سنبھالنے کے درمیان الگ نگراں انتظامیہ قائم کرنے کے بجائے موجودہ سربراہ عبوری طور پر انتظامی ذمہ داریاں جاری رکھے گا۔