کراچی: ضلع شرقی میں چھ ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کے ایک روز بعد وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ صحت کو کیس کے تمام پہلوؤں کی جامع تحقیقات اور وائرس کے ممکنہ ماخذ کی نشاندہی کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے کہا کہ مزید پھیلاؤ روکنے کے لیے پولیو کے طے شدہ حفاظتی پروٹوکول کے مطابق فوری اقدامات کیے جائیں۔

اجلاس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری صحت طاہر سانگی اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔ وزیراعلیٰ نے متاثرہ علاقے میں کیس رسپانس سرگرمیاں شروع کرنے، جامع سویپنگ کرنے اور ویکسینیشن و نگرانی کے انتظامات کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے محکمہ صحت سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی ہے۔

پولیو وائرس کی موجودگی اس لیے تشویش کا باعث ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے قومی و صوبائی سطح پر ویکسینیشن مہمات چلا رہا ہے۔ کسی بچے میں وائرس کی تصدیق کے بعد صحت حکام عام طور پر متاثرہ علاقے میں بچوں کی ویکسینیشن کی صورتحال، ممکنہ رابطوں اور ماحولیاتی نگرانی کے نتائج کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ وائرس کی گردش کے راستے کا اندازہ لگایا جا سکے۔

موجودہ مرحلے پر وزیراعلیٰ نے تحقیقات کا حکم دیا ہے؛ وائرس کا حتمی ماخذ ابھی متعین نہیں کیا گیا۔ اس لیے کسی مخصوص فرد، علاقے یا انتظامی ناکامی کو انفیکشن کا سبب قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ تحقیقات اور لیبارٹری و فیلڈ ڈیٹا کے تجزیے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ وائرس کس سلسلے سے بچے تک پہنچا۔

صوبائی حکومت نے متعلقہ حکام کو مزید منتقلی روکنے کے لیے فوری حفاظتی کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ پولیو کے خاتمے کے پروگرام میں مسلسل ویکسینیشن، بچوں تک رسائی اور سیوریج کے نمونوں سمیت ماحولیاتی نگرانی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کراچی کے اس کیس کے بعد صحت حکام کی توجہ متاثرہ علاقے میں ویکسین سے محروم یا نامکمل خوراک لینے والے بچوں کی نشاندہی اور فوری حفاظتی کوریج پر مرکوز رہے گی۔