تھر: سندھ حکومت نے تھر کے مقامی کوئلے کی منڈی کو بجلی پیدا کرنے والے آزاد اداروں سے آگے بڑھانے کے لیے غیر آئی پی پی خریداروں کے لیے قیمتوں کا نظرثانی شدہ طریقہ کار منظور کر لیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت تھر کول اینڈ انرجی بورڈ کے 31ویں اجلاس میں کیا گیا، جس میں وفاقی وزرا اور متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں ایسے خریداروں کے لیے تھر کوئلے کی فروخت کی قیمت طے کرنے کے فریم ورک پر نظرثانی کی گئی جو آزاد بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں، یعنی آئی پی پیز، کے زمرے میں نہیں آتے۔ اس اقدام کا مقصد تھر کے مقامی ایندھن کے لیے وسیع تر صنعتی منڈی پیدا کرنا اور اس کے استعمال کو بجلی گھروں سے باہر دیگر ممکنہ صارفین تک بڑھانا ہے۔ حتمی تجارتی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ نئی قیمتیں مختلف صنعتوں کے درآمدی یا متبادل ایندھن کے مقابلے میں کتنی مسابقتی ثابت ہوتی ہیں۔

بورڈ نے ڈیوٹیز، ٹیکسز اور ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن سے متعلق 9.66 ارب روپے کے تصدیق شدہ مالی دعووں کی بھی توثیق کی۔ اجلاس میں ٹیرف ایڈجسٹمنٹس کے علاوہ کان کنی، کوئلے کی نقل و حمل اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں ان فیصلوں کو تھر کوئلے کی وسیع مارکیٹنگ اور مقامی توانائی وسائل کے استعمال میں اضافے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

تھر کے کوئلے کا بڑا استعمال اب تک بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں سے منسلک رہا ہے۔ غیر آئی پی پی خریداروں کے لیے الگ اور واضح قیمتوں کا طریقہ صنعتی صارفین کو طویل مدتی خریداری، نقل و حمل اور ایندھن کی تبدیلی کے معاشی امکانات کا بہتر اندازہ دینے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم کوئلے کے استعمال میں اضافے کے ساتھ نقل و حمل، ماحولیاتی اثرات، اخراج اور مقامی آبادی و آبی وسائل سے متعلق ضابطہ کاری بھی اہم رہے گی۔

بورڈ کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ فوری طور پر تمام صنعتی شعبوں میں تھر کوئلے کی کھپت بڑھ جائے گی۔ خریداروں کے فیصلے قیمت، معیار، لاجسٹکس، موجودہ پلانٹس کی تکنیکی مطابقت اور ماحولیاتی قواعد پر منحصر ہوں گے۔ اسی طرح مالی دعووں کی توثیق انتظامی و مالی عمل کا حصہ ہے اور اسے کسی نئے نقد اخراج یا ادائیگی کے مکمل ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے جب تک متعلقہ ادائیگی کا عمل مکمل نہ ہو۔

حکومت سندھ تھر کے توانائی وسائل کو صوبائی اور قومی معیشت میں زیادہ وسیع کردار دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ نئی قیمتوں کا فریم ورک اس سمت میں پالیسی قدم ہے، جبکہ اس کے عملی نتائج آئندہ فروخت کے معاہدوں، صنعتی طلب اور انفراسٹرکچر کی پیش رفت سے واضح ہوں گے۔