اسلام آباد: حکومت نے بتایا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے واجب الادا قرضوں کا حجم بڑھ کر 11 کھرب 37 ارب روپے ہوگیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کے عرصے میں اس شعبے کے قرضوں میں تقریباً 23 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ اعدادوشمار وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت رسائی برائے مالیات کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے پانچویں اجلاس کے بعد سامنے آئے۔ اجلاس میں کاروباری قرضوں کی دستیابی، قرض لینے والوں کی معلومات اور مالیاتی اداروں کے درمیان ضروری ڈیٹا کے تبادلے پر غور کیا گیا۔ حکام نے نشاندہی کی کہ معلومات میں کمی مؤثر فیصلہ سازی اور قرضوں کے خطرات کا درست اندازہ لگانے میں رکاوٹ بنتی ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں ایس ایم ای قرض لینے والوں کی تعداد 25 ہزار سے زیادہ بڑھ کر تقریباً تین لاکھ 50 ہزار 862 ہوگئی۔ حکومت نے چھوٹے کاروباروں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرضوں کی فراہمی کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ رہائش، چھوٹے اور درمیانے کاروبار، زراعت اور برقی گاڑیوں سمیت چار ترجیحی شعبوں کو اسی سہ ماہی میں مجموعی طور پر تقریباً 222 ارب روپے کی فنانسنگ فراہم کی گئی۔ یہ رقم چاروں شعبوں سے متعلق ہے، اسے صرف چھوٹے کاروباروں کے لیے جاری کردہ قرضوں کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ مالیاتی اداروں کو قرض لینے والوں کی اہلیت جانچنے کے لیے مناسب معلومات دستیاب ہونی چاہییں، لیکن ڈیٹا کے استعمال میں تحفظ، واضح مقصد اور ضروری پابندیوں کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے نقد بہاؤ کی بنیاد پر قرض دینے کے طریقوں میں بہتری اور بینکوں کے علاوہ مائیکرو فنانس اداروں کی شمولیت پر بھی توجہ دلائی۔

حکومت کا درمیانی مدت کا ہدف 30 جون 2028 تک ایس ایم ای فنانسنگ کو 20 کھرب روپے اور قرض لینے والوں کی تعداد سات لاکھ 75 ہزار تک پہنچانا ہے۔ وزیر خزانہ نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ آئندہ توجہ صرف سفارشات پر نہیں بلکہ قابل پیمائش نتائج، عملی اقدامات اور ذیلی کمیٹیوں کے فیصلوں پر عمل درآمد کی باقاعدہ نگرانی پر بھی مرکوز رکھی جائے۔

یہ اعدادوشمار قرضوں کی رسائی میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم مقررہ اہداف تک پہنچنے کے لیے آئندہ سہ ماہیوں میں مزید پیش رفت درکار ہوگی۔