کراچی: عالمی ادارہ برائے تحفظ فطرت ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے کہا ہے کہ سندھ کے ساحلی پانیوں میں پہلی مرتبہ اسپرم وہیل کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ادارے کے مطابق یہ مشاہدہ پاکستان کے سمندری حیاتیاتی تنوع کے ریکارڈ میں ایک اہم اضافہ ہے اور اس سے ملک کے ساحلی و سمندری ماحولیاتی نظام میں بڑی سمندری انواع کی موجودگی کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے اس مشاہدے کی تصاویر اور ویڈیو کا جائزہ لینے کے بعد جانور کی شناخت اسپرم وہیل کے طور پر کی۔ اسپرم وہیل دنیا کی بڑی دانت دار وہیل انواع میں شمار ہوتی ہے اور عموماً گہرے سمندری پانیوں سے وابستہ سمجھی جاتی ہے۔ سندھ کے ساحل کے قریب اس کی ریکارڈ شدہ موجودگی اس لیے قابل ذکر ہے کہ اس خطے سے اس نوع کا اس سے پہلے مصدقہ ریکارڈ سامنے نہیں آیا تھا۔
پاکستان کا بحیرہ عرب سے ملحق ساحلی علاقہ مختلف اقسام کی ڈولفن، وہیل، کچھوؤں اور دیگر سمندری جانداروں کا مسکن ہے۔ ماہرین کئی برس سے اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ساحلی پانیوں میں حیاتیاتی تنوع کی منظم نگرانی، ماہی گیروں کی تربیت اور سمندری جانوروں کی اتفاقی گرفت یا پھنسنے کے واقعات کی بروقت رپورٹنگ ضروری ہے۔ نئے مشاہدے سے یہ ضرورت مزید نمایاں ہوتی ہے کہ گہرے اور ساحلی پانیوں میں بڑی سمندری انواع کے نقل و حرکت کے راستوں پر مسلسل تحقیق کی جائے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان سمندری حیات کی نگرانی میں مقامی ماہی گیر برادریوں کے ساتھ کام کرتا رہا ہے۔ ماہی گیروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات، تصاویر اور ویڈیوز ایسے علاقوں میں اہم ڈیٹا فراہم کرتی ہیں جہاں مستقل سائنسی سروے محدود ہوتے ہیں۔ تاہم کسی ایک مشاہدے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ اسپرم وہیل سندھ کے ساحل پر مستقل طور پر موجود ہے یا اس کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے؛ اس کے لیے طویل مدتی مشاہدات اور مزید سائنسی شواہد درکار ہوں گے۔
سمندری ماہرین کے لیے اس ریکارڈ کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ پاکستان کے پانیوں میں پائی جانے والی بڑی سمندری انواع کی تقسیم کے نقشے کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ جہاز رانی، ماہی گیری کے جال، آلودگی اور زیر آب شور جیسے عوامل وہیل اور دیگر بڑے سمندری جانداروں کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں، اس لیے کسی نئی یا نایاب موجودگی کا مستند اندراج تحفظ کی منصوبہ بندی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی تصدیق کے بعد یہ مشاہدہ سندھ کے ساحل کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا ریکارڈ قرار دیا گیا ہے۔ آئندہ سروے یہ واضح کر سکیں گے کہ آیا یہ ایک انفرادی اور عارضی آمد تھی یا بحیرہ عرب کے اس حصے کو اسپرم وہیل اپنی نقل مکانی یا خوراک کے حصول کے دوران زیادہ باقاعدگی سے استعمال کرتی ہے۔
