کولمبو: سری لنکا کی معیشت نے 2026 کی دوسری سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر 4.2 فیصد نمو ریکارڈ کی ہے، جس سے شدید مالی بحران کے بعد جاری بحالی کا سلسلہ برقرار رہا، اگرچہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث بلند ایندھن قیمتیں اور مہنگائی نئی مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق سری لنکا کے محکمہ مردم شماری و شماریات نے منگل کو بتایا کہ اپریل سے جون تک مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ مارکیٹ کی عمومی توقعات کے مطابق رہا۔
سرکاری اعداد کے مطابق دوسری سہ ماہی میں زراعت کے شعبے کی پیداوار 2.3 فیصد بڑھی، صنعت نے 7.3 فیصد کی نسبتاً مضبوط نمو دکھائی جبکہ خدمات کے شعبے میں 2.7 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ اس سے پہلے جنوری سے مارچ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں معیشت 5.1 فیصد بڑھی تھی۔ دوسری سہ ماہی کی شرح پہلے تین ماہ کے مقابلے میں سست ضرور رہی، لیکن چار سال قبل کے شدید زرمبادلہ اور قرض بحران کے بعد معیشت کے مثبت دائرے میں رہنے کی تصدیق کرتی ہے۔
رائٹرز سے گفتگو کرنے والے چار معاشی تجزیہ کاروں نے کہا کہ دوسری سہ ماہی کی 4.2 فیصد شرح توقعات کے مطابق ہے، تاہم سال کے دوسرے نصف میں نمو 3 سے 4 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے۔ ان کے مطابق پورے 2026 کے لیے شرح نمو تقریباً 3.5 سے 4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ یہ تخمینے سرکاری پیش گوئی نہیں بلکہ مارکیٹ ماہرین کی آرا ہیں اور عالمی تیل کی قیمتوں، مقامی طلب اور مالیاتی حالات میں تبدیلی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
سری لنکا 2.9 ارب ڈالر کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پروگرام کے تحت اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی ایک ٹیم پروگرام کے ساتویں جائزے کے لیے ملک میں موجود ہے، جس کی کامیاب تکمیل سے تقریباً 330 ملین ڈالر کی اگلی قسط کا راستہ کھل سکتا ہے۔ آئی ایم ایف رواں سال سری لنکا کی معاشی نمو 3 فیصد رہنے کی توقع رکھتا ہے، جبکہ 2025 میں ملک نے تقریباً 5 فیصد نمو ریکارڈ کی تھی۔
توانائی کی بلند عالمی قیمتیں بحالی کے لیے نمایاں خطرہ بن گئی ہیں کیونکہ سری لنکا اپنی ایندھن ضروریات بڑی حد تک درآمدات سے پوری کرتا ہے۔ اگست میں مہنگائی بڑھ کر 8 فیصد تک پہنچ گئی، جو مارچ میں 2.2 فیصد تھی۔ حکومت نے ایندھن کی قلت اور بلند لاگت کے ماحول میں بعض انتظامی اقدامات کیے اور مارچ کے بعد پمپ قیمتوں میں مجموعی طور پر تقریباً 35 فیصد اضافہ ہوا۔ مرکزی بینک نے مئی میں پالیسی شرح سود 100 بیسس پوائنٹس بڑھائی تاکہ مہنگائی اور کرنسی پر دباؤ کو محدود کیا جا سکے۔
رواں سال سری لنکن روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 5.7 فیصد کمزور ہوا ہے۔ دوسری سہ ماہی کے مثبت جی ڈی پی اعداد بحالی کی رفتار کی نشاندہی کرتے ہیں، مگر آئندہ مہینوں میں تیل کی قیمتیں، مہنگائی، آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط، مالی اصلاحات اور گھریلو کھپت اس رفتار کو متعین کریں گے۔ اس لیے 4.2 فیصد کی سہ ماہی نمو کو بحران کے خاتمے کا حتمی ثبوت نہیں بلکہ جاری معاشی بحالی کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

