کراچی: سپرنیٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کے شیئر ہولڈرز نے چار منسلک کمپنیوں میں مجموعی طور پر دو ارب روپے تک سرمایہ کاری یا مالی معاونت کی حدود منظور کرلی ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو فراہم کردہ قراردادوں کے مطابق کمپنی کی 47ویں سالانہ جنرل میٹنگ میں ٹیلی کارڈ لمیٹڈ، سپرنیٹ انفراسٹرکچر سلوشنز، سپرنیٹ سکیور سلوشنز اور سپرنیٹ ای سلوشنز کے لیے فی کمپنی زیادہ سے زیادہ 50 کروڑ روپے کی حد مقرر کی گئی ہے۔
منظور شدہ مالی معاونت صرف حصص کی خرید تک محدود نہیں ہوگی۔ کمپنی قابل اطلاق قوانین کے تحت ایکویٹی سرمایہ کاری، قرض، ایڈوانس، رننگ فنانس، گارنٹی، انڈیمنٹی، شیئرز کے رہن یا دیگر مجاز ذرائع استعمال کرسکے گی۔ بورڈ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ ضرورت کے مطابق داخلی نقد بہاؤ یا قرض لیے گئے فنڈز سے یہ سرمایہ فراہم کرے۔ یہ حدود اگلی سالانہ جنرل میٹنگ تک نافذ رہیں گی اور بعد میں شیئر ہولڈرز کی منظوری سے دوبارہ بڑھائی جاسکتی ہیں۔
ایک الگ قرارداد میں ٹیلی کارڈ لمیٹڈ کو واجب الادا 37 کروڑ 22 لاکھ روپے تک کی رقم کو ایک سالہ فنانسنگ سہولت میں تبدیل کرنے کی منظوری دی گئی۔ اس رقم پر تین ماہ کے کیبور کے علاوہ 2.40 فیصد سالانہ مارک اپ ہوگا اور مارک اپ سہ ماہی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔ سپرنیٹ کو باہمی شرائط اور بورڈ کی منظوری کے تحت مقررہ مدت سے پہلے جزوی یا مکمل ادائیگی کا اختیار بھی ہوگا۔
شیئر ہولڈرز نے منسلک کمپنیوں کے ساتھ ایسے لین دین اور بقایاجات کی بھی توثیق کی جو معمول کی تجارتی کریڈٹ مدت سے زیادہ عرصے تک واجب الادا رہنے کے باعث کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت سرمایہ کاری شمار ہوئے۔ بورڈ کو 30 جون 2027 کو ختم ہونے والے مالی سال یا اگلی اے جی ایم تک متعلقہ فریقوں کے ساتھ مجاز لین دین کی منظوری کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ اجلاس میں مالی سال 2026 کے لیے 25 پیسے فی حصص حتمی نقد منافع اور آڈٹ شدہ مالی بیانات بھی منظور کیے گئے۔ یہ منظوریاں مالی حدود فراہم کرتی ہیں؛ ضروری نہیں کہ مکمل دو ارب روپے فوری طور پر استعمال کیے جائیں، کیونکہ حقیقی سرمایہ کاری بورڈ کے فیصلوں اور کاروباری ضرورت پر منحصر ہوگی۔

