اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بینکنگ عدالت کسی بینک کو ایسا مارک اپ نہیں دے سکتی جو اس نے اصل دعویٰ میں واضح طور پر طلب نہ کیا ہو۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کریسنٹ اسپننگ ملز کی اپیل منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے فروری 2019 کے فیصلے اور بینکنگ عدالت کے ترمیم شدہ ڈگری کے اس حصے کو ختم کر دیا جس کے ذریعے سٹی بینک کے حق میں بعد ازاں مارک اپ شامل کیا گیا تھا۔

مقدمے کا پس منظر 1990 کی دہائی سے متعلق ہے، جب کریسنٹ اسپننگ ملز نے سٹی بینک سے مالی سہولیات حاصل کیں اور واجبات کی عدم ادائیگی پر بینک نے 1995 میں تقریباً 7 کروڑ 60 لاکھ روپے کی ریکوری کا دعویٰ دائر کیا۔ 1999 میں مقدمہ بینک کے حق میں ڈگری ہوا۔ بعد میں بینک نے ضابطہ دیوانی کی دفعہ 152 کے تحت درخواست دے کر ڈگری میں وصولی تک مارک اپ شامل کرایا، جس کے خلاف مل نے قانونی چارہ جوئی کی۔

سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا دفعہ 152، جو عدالتی فیصلوں یا احکامات میں قلمی، حسابی یا اسی نوعیت کی غلطیوں کی اصلاح کے لیے استعمال ہوتی ہے، اس بنیاد پر ایسا مالی ریلیف شامل کیا جا سکتا ہے جو اصل دعویٰ میں مانگا ہی نہیں گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ اس دفعہ کو مقدمہ دوبارہ سننے یا فریقین کے بنیادی حقوق تبدیل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی فیصلے میں قانونی یا بنیادی نوعیت کی غلطی ہو تو اس کے لیے مناسب راستہ نظرثانی یا اپیل ہے۔

کریسنٹ اسپننگ ملز کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بینک نے اصل دعوے میں بنیادی رقم کے ساتھ یکم اکتوبر 1995 سے 19 فیصد سالانہ لیکویڈیٹڈ ڈیمیجز مانگے تھے اور ٹرائل کورٹ نے اس مخصوص اضافی دعوے کو منظور نہیں کیا تھا۔ ان کے مطابق اس کے بعد مارک اپ کو ایک الگ حق کے طور پر ڈگری میں شامل کرنا اصل دعویٰ سے تجاوز تھا۔ دوسری جانب بینک کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ متعلقہ بینکاری قانون کے تحت مارک اپ شامل ہونا چاہیے تھا اور دفعہ 152 کے ذریعے اس omission کو درست کیا گیا۔

سپریم کورٹ کے 18 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ عمومی اصول کے تحت عدالت وہ ریلیف نہیں دے سکتی جو دعویٰ میں طلب نہ کیا گیا ہو۔ محض یہ عمومی فقرہ کہ عدالت کوئی اور مناسب ریلیف بھی دے سکتی ہے، ایسے غیر دعویٰ شدہ حق کو خودکار طور پر شامل کرنے کے لیے کافی نہیں، جب تک ضروری حقائق پہلے سے plead نہ کیے گئے ہوں اور مطلوبہ متبادل ریلیف مقدمے کے ریکارڈ اور قانون کے مطابق نہ ہو۔

عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کر کے منظور کیا اور لاہور ہائی کورٹ و بینکنگ عدالت کے احکامات کو صرف اس حد تک کالعدم کیا جہاں ترمیم شدہ ڈگری کے ذریعے مارک اپ شامل کیا گیا تھا۔ فیصلہ بینکاری مقدمات میں pleadings کی اہمیت اور دفعہ 152 کی محدود نوعیت واضح کرتا ہے: اس دفعہ کا مقصد تکنیکی غلطی درست کرنا ہے، کسی فریق کو بعد میں نیا substantive مالی حق دینا نہیں۔

اس فیصلے کا اطلاق مخصوص مقدمے کے حقائق اور متعلقہ قانونی دفعات پر ہوا ہے۔ دوسرے بینکاری مقدمات میں نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ اصل دعویٰ میں کیا ریلیف مانگا گیا، متعلقہ قانون کیا کہتا ہے اور عدالت کے سامنے کون سے حقائق و دلائل موجود ہیں۔