اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ خواتین کے خلاف گھریلو تشدد اور گھر کے اندر ہونے والے قتل جیسے مقدمات میں روایتی اندازِ تفتیش کافی نہیں، بلکہ پولیس اور عدالتی نظام کو صنفی حساس نقطۂ نظر اختیار کرنا ہوگا تاکہ تعصب، ناقص شواہد اور نجی گھریلو ماحول کے باعث حقائق دب نہ جائیں۔ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ ہدایات ایک ایسے مقدمے میں جاری کیں جس میں ایک شخص اپنی اہلیہ عقیلہ بی بی کے 2011 میں کراچی کے گھر میں قتل کے جرم میں سزا یافتہ تھا۔

عدالت نے مجرم حبیب اللہ کی جیل پٹیشن مسترد کرتے ہوئے عمر قید اور مقتولہ کے قانونی ورثا کے لیے پانچ لاکھ روپے معاوضے کی سزا برقرار رکھی۔ دس صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے تحریر کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ازدواجی گھر کی رازداری کو ایسا پردہ نہیں بننے دیا جا سکتا جس کے پیچھے کسی جرم کی ذمہ داری سے بچا جائے، تاہم اسی کے ساتھ ملزم کے لیے بے گناہی کا قانونی مفروضہ اور دیگر بنیادی حفاظتی اصول بھی برقرار رہیں گے۔

فیصلے میں گھریلو قتل کو ایسے جرائم کی قسم قرار دیا گیا جنہیں ثابت کرنا فطری طور پر مشکل ہوتا ہے، کیونکہ واقعات بند گھروں میں پیش آتے ہیں، آزاد گواہ کم ہوتے ہیں اور اہم شواہد ضائع یا تبدیل کیے جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جہاں استغاثہ ابتدائی اور بنیادی حالات سے ایک قابلِ غور سلسلہ قائم کر دے، وہاں ایسے حقائق جو خاص طور پر کسی شخص کے ذاتی علم میں ہوں ان کی مناسب وضاحت اہم ہو سکتی ہے۔ یہ اصول خودکار طور پر شوہر کو مجرم قرار نہیں دیتا اور نہ ہی استغاثہ کی ذمہ داری ختم کرتا ہے۔

سپریم کورٹ نے متعلقہ پولیس تفتیش پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ریکارڈ کے مطابق خون آلود ہتھوڑا اور بیڈشیٹ برآمد کیے گئے تھے لیکن انہیں ٹرائل کورٹ میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت نے اسے سنگین تفتیشی کوتاہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی مشکل نوعیت کے گھریلو قتل کے مقدمات میں ایسی غفلت انصاف کے حصول کو مزید دشوار بنا دیتی ہے۔

عدالت نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ پولیس افسران کو ایسی تربیت دی جائے جس سے وہ صنفی اور پدرشاہی تعصبات کو پہچان سکیں اور ان سے بالاتر ہو کر تفتیش کریں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر دستیاب ثبوت کی درست نشاندہی، حفاظت اور ریکارڈ پر لانے کا پابند بنایا جائے، جبکہ لاپرواہی یا غیر سنجیدہ رویے سے ثبوت ضائع ہونے کی صورت میں تفتیشی افسران کا احتساب کیا جائے۔ فیصلے کا زور اس بات پر ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم میں متاثرہ خاتون کے کردار سے متعلق غیر متعلقہ سماجی تصورات کو حقائق اور قانونی شواہد پر حاوی نہ ہونے دیا جائے۔