اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازم کی نجی زندگی میں سنگین بدسلوکی، خصوصاً اہلیہ کے خلاف تشدد، دفتر سے باہر ہونے کے باوجود محکمانہ مس کنڈکٹ کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ عدالت نے انٹیلی جنس بیورو کے ایک ملازم کی لازمی ریٹائرمنٹ برقرار رکھتے ہوئے اس کی اپیل کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔
مقدمہ جواد عباسی نامی ملازم سے متعلق تھا، جو انٹیلی جنس بیورو میں باورچی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا تھا اور اس پر اپنی اہلیہ کو آگ لگانے کا الزام عائد ہوا تھا۔ اس نے وفاقی سروس ٹریبونل کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں محکمانہ سزا برقرار رکھی گئی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے دستیاب محکمانہ ریکارڈ اور قانونی اصولوں کا جائزہ لینے کے بعد لازمی ریٹائرمنٹ میں مداخلت نہیں کی۔
جسٹس شاہد وحید کے تحریر کردہ فیصلے میں، جس بنچ میں جسٹس عائشہ اے ملک بھی شامل تھیں، عدالت نے خواتین کے وقار کو بنیادی آئینی قدر قرار دیا۔ فیصلے کے مطابق سرکاری ملازم کا طرز عمل صرف دفتر کی حدود تک محدود نہیں رہتا؛ ایسا سنگین رویہ جو عوامی خدمت کے لیے اس کی موزونیت یا ادارے کی ساکھ کو متاثر کرے، محکمانہ قواعد کے تحت قابلِ کارروائی ہوسکتا ہے۔
عدالت نے یہ اہم فرق بھی واضح کیا کہ فوجداری اور محکمانہ کارروائی کے مقاصد اور ثبوت کے معیار یکساں نہیں ہوتے۔ فوجداری مقدمے میں بریت کا مطلب یہ ہے کہ جرم مطلوبہ سخت معیار، یعنی معقول شک سے بالاتر، ثابت نہیں ہوا۔ یہ نتیجہ لازماً اس بات کا سرٹیفکیٹ نہیں بنتا کہ محکمانہ معیار پر بھی کوئی بدعملی ثابت نہیں ہوسکتی۔
سپریم کورٹ نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ محض ایف آئی آر کسی ملازم کو محکمانہ سزا دینے کے لیے کافی نہیں۔ زیر سماعت معاملے میں انکوائری افسر نے 13 گواہوں کے بیانات ملازم کی موجودگی میں ریکارڈ کیے اور اسے جرح کا موقع دیا گیا۔ عدالت کے مطابق محکمانہ انکوائری نے الزام سے متعلق شواہد کا آزادانہ جائزہ لیا تھا، اس لیے کارروائی صرف فوجداری مقدمے کے اندراج پر منحصر نہیں تھی۔
عدالت نے پایا کہ درخواست گزار کو دفاع کا مناسب موقع ملا، لازمی ریٹائرمنٹ کی سزا بدعملی کی نوعیت کے لحاظ سے غیر متناسب نہیں تھی، اور ایسا کوئی قانونی نقص یا اہم آئینی سوال سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر اپیل کی اجازت دی جاتی۔ اس بنا پر درخواست مسترد کردی گئی۔ فیصلہ سرکاری ملازمین کے احتساب میں اس اصول کو نمایاں کرتا ہے کہ نجی مقام پر کیا گیا سنگین تشدد محض اس وجہ سے ادارہ جاتی نظم و ضبط سے الگ نہیں ہوجاتا کہ واقعہ دفتری اوقات یا دفتر کی حدود سے باہر پیش آیا۔
