اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایک اہم فوجداری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی مقتول کی آنکھوں کا کھلا یا بند ہونا اس بات کا حتمی ثبوت نہیں بن سکتا کہ قتل کی واردات مشاہدہ کی گئی تھی یا نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانونِ شہادت آرڈر 1984 کسی شخص پر یہ قانونی ذمہ داری عائد نہیں کرتا کہ موت کے بعد لازماً میت کی آنکھیں بند کی جائیں۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے نو صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ میت کی آنکھیں بند کرنا مذہبی اور معاشرتی روایت ہو سکتی ہے، مگر اسے ایسا قانونی معیار نہیں بنایا جا سکتا جس کی بنیاد پر عینی شہادت کو خودکار طور پر رد یا قبول کیا جائے۔ فیصلہ تین رکنی بینچ نے دیا جس کی سربراہی جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کر رہے تھے۔

عدالت نے عظمت اللہ عرف موٹو اور محمد لقمان عرف گونا کی جیل درخواستیں مسترد کر دیں۔ دونوں نے 2011 کے ایک دوہرے قتل مقدمے میں اپنی سزاؤں کو چیلنج کیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ نے مئی 2022 میں ان کی سزائیں برقرار رکھتے ہوئے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے دفعہ 302(b) کے تحت سزاؤں اور ہائی کورٹ کی جانب سے عمر قید کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

دفاع نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ عینی گواہوں کے بیانات میں تضادات موجود ہیں اور پوسٹ مارٹم و انکوائری رپورٹس میں دونوں مقتولین کی آنکھیں کھلی ہونے کا اندراج اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ واقعہ غیر مشاہدہ شدہ تھا۔ عدالت نے اس استدلال کو قطعی اصول ماننے سے انکار کیا۔

فیصلے میں قانونِ شہادت کے آرٹیکل 129 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ عدالت حالات کے مطابق ممکنہ حقائق کے بارے میں قرینہ قائم کر سکتی ہے، مگر انسانی رویے کو جامد مفروضوں میں نہیں باندھا جا سکتا۔ شدید صدمے، خوف اور تشدد کے حالات میں رشتہ داروں اور عینی گواہوں کا ردعمل مختلف ہو سکتا ہے۔ کوئی شخص فوری طبی مدد پر توجہ دے سکتا ہے اور اسے موقع پر موت کا یقین بھی نہ ہو۔

عدالت نے طبی پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا کہ موت کے بعد پلکوں کی حالت جسمانی اور عضلاتی عوامل سے متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے آنکھوں کا کھلا رہ جانا بذات خود گواہوں کی موجودگی یا عدم موجودگی ثابت نہیں کرتا۔ فیصلہ فوجداری مقدمات میں اس مخصوص قرینے کے استعمال کے بارے میں عدالتی رہنمائی فراہم کرتا ہے، جبکہ ہر مقدمے میں شہادت کا مجموعی جائزہ اس کے اپنے حقائق کے مطابق کیا جائے گا۔