اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازمین کا نجی یا آف ڈیوٹی طرزِ عمل بھی عوامی مفاد اور ریاستی اداروں پر اعتماد سے متعلق ہو سکتا ہے، جبکہ خواتین کے وقار کا احترام محض ذاتی اخلاقیات نہیں بلکہ ایک آئینی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے یہ ریمارکس انٹیلی جنس بیورو کے ایک سابق ملازم کی جبری ریٹائرمنٹ کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے دیے۔
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جواد عباسی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار انٹیلی جنس بیورو میں باورچی کے طور پر کام کرتا تھا اور اس نے وفاقی سروس ٹریبونل کے 15 جنوری کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں اس کی جبری ریٹائرمنٹ برقرار رکھی گئی تھی۔ اس کے خلاف الزام تھا کہ اس نے اپنی اہلیہ کو آگ لگائی۔
عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا سرکاری ملازم کے نجی زندگی میں کیے گئے مبینہ سنگین طرزِ عمل کو محکمانہ نظم و ضبط اور ملازمت کے معیار سے الگ سمجھا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس مؤقف کو قبول نہیں کیا اور کہا کہ ریاستی خدمت سے وابستہ شخص کے کردار کا تعلق ادارے کی ساکھ، عوامی اعتماد اور آئینی اقدار سے بھی ہوتا ہے۔
فیصلے میں خواتین کے وقار اور احترام کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ عدالت نے واضح کیا کہ عورت کی عزت کا احترام ایسا اختیاری ذاتی وصف نہیں جسے سرکاری ملازم اپنی سہولت کے مطابق اپنائے یا نظر انداز کرے۔ آئین شہریوں کے وقار کا تحفظ کرتا ہے اور ریاست اپنے ملازمین سے ایسے رویے کی توقع کر سکتی ہے جو ان بنیادی اقدار سے ہم آہنگ ہو۔
یہ مقدمہ ایک محکمانہ سزا کے قانونی جواز سے متعلق تھا؛ عدالت نے فوجداری ذمہ داری کے کسی نئے نتیجے کا اعلان نہیں کیا۔ اہلیہ کو آگ لگانے کا معاملہ درخواست گزار کے خلاف الزام اور محکمانہ کارروائی کے پس منظر کے طور پر رپورٹ ہوا ہے، اس لیے اسے عدالتی طور پر ثابت شدہ فوجداری جرم کے طور پر بیان نہیں کیا جا رہا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ اصول ابھرتا ہے کہ سرکاری ملازمت میں نظم و ضبط کا جائزہ صرف دفتر کے اندر ہونے والے رویے تک محدود نہیں رہتا، خصوصاً جہاں نجی طرزِ عمل بنیادی حقوق، خواتین کے تحفظ یا ریاستی ادارے کی ساکھ سے براہ راست ٹکراتا ہو۔ عدالت نے وفاقی سروس ٹریبونل کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے درخواست گزار کی جبری ریٹائرمنٹ برقرار رکھی۔

