اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق ایک مقدمے میں واضح کیا ہے کہ حکومتی اداروں پر لازم ہے کہ وہ ملازمین کے لیے ترقی اور سروس کے واضح، قابلِ پیش گوئی اور منصفانہ قواعد بنائیں۔ عدالت نے محکمہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے محمد شفیق کی اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر، جسمانی تعلیم، کے عہدے پر ترقی بحال کرتے ہوئے ترقی واپس لینے کی کارروائی کو غیر مؤثر قرار دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ محض انتظامی سہولت قانونی حق سے انکار کا جواز نہیں بن سکتی۔

ڈان کی آٹھ اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مقدمہ سنا۔ جسٹس عائشہ ملک کے تحریر کردہ فیصلے میں سرکاری ملازمین کے کیریئر سے متعلق قواعد میں وضاحت اور تسلسل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ عدالت کے مطابق حکومت ملک کا سب سے بڑا آجر ہونے کے ناتے خود ایک مثال قائم کرے، تاکہ ملازمین کو معلوم ہو کہ ملازمت میں داخلے، ترقی اور آگے بڑھنے کے قانونی راستے کیا ہیں۔

مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق محمد شفیق 22 نومبر 1995 کو جسمانی تعلیم کے ایلیمنٹری اسکول ٹیچر کے طور پر محکمہ تعلیم میں شامل ہوئے تھے۔ 31 اکتوبر 2020 کو انہیں گریڈ 16 میں اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر، جسمانی تعلیم، کے عہدے پر ترقی دی گئی، لیکن 24 مئی 2023 کو یہ ترقی واپس لے لی گئی۔ درخواست گزار نے اس اقدام کو چیلنج کیا، تاہم پنجاب سروس ٹریبونل نے 12 مارچ 2025 کو ان کی درخواست مسترد کر دی۔ بعد میں معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔

عدالت نے کہا کہ اگر سروس اسٹرکچر میں ترقی کا راستہ غیر واضح ہو تو اس کے نتائج صرف متعلقہ ادارے تک محدود نہیں رہتے؛ ملازم کو برسوں تک ایسے حق کے لیے جدوجہد کرنا پڑ سکتی ہے جسے قواعد میں ابتدا ہی سے واضح ہونا چاہیے تھا۔ فیصلے میں تنخواہ، سنیارٹی، ترقی اور ریٹائرمنٹ کو محض انتظامی امور نہیں بلکہ ملازم کی مالی سلامتی، پیشہ ورانہ پیش رفت اور وقار سے وابستہ معاملات قرار دیا گیا۔

بینچ کے مطابق اگر قواعد میں بار بار سامنے آنے والی خامیاں موجود ہوں تو درست راستہ ملازم کو پہلے دی گئی سہولت واپس لینا نہیں بلکہ متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد قواعد کو بہتر بنانا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ نظم و نسق کی کامیابی کا پیمانہ محض ملازمین کے دعووں کی مزاحمت نہیں بلکہ جائز حقوق کا منصفانہ، مستقل اور مؤثر تعین اور نفاذ ہے۔

فیصلے کی اہمیت صرف درخواست گزار کی ترقی کی بحالی نہیں بلکہ ان اصولوں میں بھی ہے جو سرکاری ملازمین کے لیے قانونی یقین دہانی اور انتظامی شفافیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم یہ حکم زیر سماعت مقدمے کے حقائق پر مبنی ہے؛ اس سے ہر نوعیت کی متنازع ترقی خودکار طور پر بحال نہیں ہوتی۔ دیگر معاملات میں متعلقہ قواعد اور مقدمے کے حقائق کا الگ جائزہ ضروری ہوگا۔