اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بینکنگ کورٹ ضابطۂ دیوانی کی دفعہ 152 استعمال کرکے کسی ڈگری میں ایسا مارک اپ شامل نہیں کر سکتی جو اصل دعوے میں واضح طور پر مانگا اور ابتدائی فیصلے میں منظور نہ کیا گیا ہو۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کریسنٹ اسپننگ ملز کی اپیل منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے فروری 2019 کے فیصلے اور بینکنگ کورٹ کے ترمیمی حکم کو صرف بعد میں شامل کیے گئے مارک اپ کی حد تک کالعدم کر دیا۔

فیصلہ یکم جون 2026 کو سول پٹیشن نمبر 1481-ایل آف 2019 میں دیا گیا اور چار ستمبر کو اس کی تفصیلی رپورٹ سامنے آئی۔ بینچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان بھی شامل تھے، جبکہ 18 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔ عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرکے منظور کیا، تاہم سٹی بینک کے حق میں اصل رقم کی وصولی کی ڈگری برقرار رکھی۔

مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق کریسنٹ اسپننگ ملز نے 1990 سے 1995 کے دوران سٹی بینک سے مالی سہولتیں حاصل کیں اور طے شدہ شیڈول کے مطابق واجبات ادا نہ کر سکی۔ بینک نے نومبر 1995 میں 7 کروڑ 62 لاکھ 41 ہزار 234 روپے سے زائد کی وصولی کا دعویٰ بینکنگ ٹربیونلز آرڈیننس 1984 کے تحت دائر کیا۔ دفاع کی اجازت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اکتوبر 1999 میں اصل رقم کے حق میں ڈگری جاری ہوئی۔

بعد ازاں بینک نے دفعہ 152 کے تحت درخواست دے کر دعویٰ دائر ہونے کی تاریخ سے رقم کی مکمل وصولی تک مارک اپ شامل کرنے کی استدعا کی، جسے بینکنگ کورٹ نے فروری 2001 میں منظور کر لیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے سات فروری 2019 کو مل کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس ترمیم کو برقرار رکھا۔ ہائیکورٹ کا مؤقف تھا کہ 1997 کے بینکنگ ریکوری قانون کی دفعہ 15 کے تحت مارک اپ دیا جا سکتا تھا اور اپیلٹ عدالت کو آرڈر 41 رول 33 کے تحت مناسب ڈگری جاری کرنے کا وسیع اختیار حاصل ہے۔

سپریم کورٹ نے اس استدلال سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 152 صرف کتابتی، حسابی یا حادثاتی غلطی اور قلمی سہو کی اصلاح کے لیے ہے۔ اسے مقدمے کی دوبارہ سماعت، فیصلے کی بنیاد بدلنے یا فریقین کے بنیادی حقوق اور مالی ذمہ داریوں میں نئی تبدیلی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی عدالتی یا قانونی غلطی ہو تو اس کا راستہ نظرثانی یا اپیل ہے، محض ڈگری کی تصحیح کی درخواست نہیں۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ دعویٰ نامے میں مطلوبہ ریلیف صاف طور پر درج ہونا چاہیے تاکہ مخالف فریق کو معلوم ہو کہ اسے کس مقدمے کا جواب دینا ہے۔ صرف یہ عمومی جملہ کہ عدالت کوئی اور مناسب ریلیف بھی دے سکتی ہے، الگ اور غیر مانگے گئے مالی حق کا خودکار جواز نہیں بنتا۔ اپیلٹ عدالت متبادل یا تبدیل شدہ ریلیف اسی وقت دے سکتی ہے جب اس کے لیے ضروری حقائق پہلے سے دعوے اور شہادت میں موجود ہوں، وہ مقدمے کی اصل نوعیت سے ہم آہنگ ہو اور قانون کے خلاف نہ ہو۔

یہ فیصلہ یہ عمومی اصول قائم نہیں کرتا کہ بینکنگ مقدمات میں کبھی مارک اپ نہیں دیا جا سکتا۔ اس مخصوص تنازع میں مسئلہ یہ تھا کہ متعلقہ مارک اپ اصل دعوے میں اس شکل میں طلب نہیں کیا گیا، ابتدائی فیصلے میں منظور نہیں ہوا اور پھر اسے دفعہ 152 کی محدود اصلاحی طاقت کے ذریعے شامل کیا گیا۔ عدالت نے اسی اضافے کو ختم کیا، جبکہ اصل وصولی کی ڈگری اور بنیادی ذمہ داری کو نہیں چھیڑا۔