زیورخ: سوئٹزرلینڈ کے ایوانِ بالا نے پیر 14 ستمبر 2026 کو یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن، ای ایف ٹی اے، اور جنوبی امریکی بلاک مرکسور کے درمیان تجارتی معاہدے کی منظوری دے دی۔ ایوان نے معاہدے کے ممکنہ اثرات سے سوئس کسانوں کو تحفظ دینے کے لیے چھ سال میں 517 ملین سوئس فرانک، تقریباً 633 ملین ڈالر، کی مالی معاونت کے پیکج کو بھی اس کے ساتھ جوڑا ہے۔
رائٹرز کے مطابق معاہدہ 35 ووٹوں سے منظور ہوا، سات ارکان نے مخالفت کی اور تین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس منظوری کے بعد معاہدہ دوبارہ سوئس پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں جائے گا، جہاں اسے جون 2026 میں مسترد کر دیا گیا تھا۔ اس لیے ایوانِ بالا کی منظوری کے باوجود اسے سوئٹزرلینڈ کی جانب سے مکمل اور حتمی پارلیمانی توثیق نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ تجارتی معاہدہ ای ایف ٹی اے کے رکن ممالک اور مرکسور کے بنیادی اراکین ارجنٹینا، برازیل، پیراگوئے اور یوراگوئے کے درمیان ہے۔ ای ایف ٹی اے میں سوئٹزرلینڈ کے ساتھ ناروے، آئس لینڈ اور لیختنشتائن شامل ہیں، اور سوئٹزرلینڈ اس گروپ کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ معاہدے کا مقصد دونوں خطوں کے درمیان تجارت کے لیے محصولات اور دیگر رکاوٹوں کو کم کرنا اور کمپنیوں کے لیے منڈیوں تک رسائی بہتر بنانا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں زرعی شعبہ طویل عرصے سے حساس سیاسی مسئلہ رہا ہے۔ ایوانِ زیریں میں جون کی مخالفت صرف ایک سیاسی دھڑے تک محدود نہیں تھی بلکہ دائیں اور بائیں دونوں جانب کے بعض ارکان نے مقامی کسانوں پر درآمدی مسابقت کے ممکنہ اثرات کے بارے میں تحفظات ظاہر کیے تھے۔ اسی تناظر میں ایوانِ بالا نے معاہدے کے ساتھ کسانوں کے لیے اضافی مالی مدد شامل کی، تاکہ درآمدی دباؤ یا مارکیٹ میں تبدیلیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
سوئس وزیرِ معیشت نے تقریباً ایک سال قبل برازیل میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے، مگر دستخط کے بعد ہر ملک کے اپنے داخلی توثیقی عمل کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ موجودہ ووٹ اسی داخلی پارلیمانی مرحلے کا حصہ ہے۔ ایوانِ زیریں اب ایوانِ بالا کی ترامیم اور مالی معاونت کے بندوبست کے ساتھ معاہدے کا دوبارہ جائزہ لے گا۔
اگر ایوانِ زیریں اپنی سابقہ مخالفت برقرار رکھتا ہے تو مزید پارلیمانی عمل درکار ہو سکتا ہے، جبکہ منظوری کی صورت میں سوئٹزرلینڈ کی توثیق کا راستہ مزید واضح ہوگا۔ موجودہ خبر کا مصدقہ نتیجہ صرف یہ ہے کہ ایوانِ بالا نے معاہدہ منظور کر کے اسے واپس ایوانِ زیریں بھیج دیا ہے؛ معاہدہ ابھی سوئٹزرلینڈ میں مکمل طور پر نافذ نہیں ہوا۔
