حیدرآباد/تھرپارکر: سندھ کے ضلع تھرپارکر میں ایک ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے کے بعد لگنے والی آگ سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر نو ہوگئی ہے۔ مٹھی کے ڈپٹی کمشنر حمید جاگیرانی کے مطابق واقعہ نگرپارکر تعلقہ کے دانو دھاندل علاقے میں پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو کے زیر انتظام اسپتال میں پیش آیا، جہاں ایک مریضہ کو دوسرے اسپتال منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق خاتون نے بنیادی مرکز صحت میں بچے کو جنم دیا تھا اور بعد از آپریشن پیچیدگیوں کے باعث اسے ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال مٹھی منتقل کیا جا رہا تھا۔ ایمبولینس میں مریضہ کے لیے آکسیجن کا انتظام کرتے ہوئے سلنڈر میں دھماکا ہوا، جس کے بعد گاڑی میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ ابتدائی طور پر سات افراد کی ہلاکت اور پانچ کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، تاہم بعد میں ہلاکتوں کی تعداد نو ہوگئی۔

پی پی ایچ آئی کے ضلعی منیجر ابراہیم کمبھار نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں طبی مرکز کے بعض عملے کے افراد بھی شامل ہیں۔ حادثے کی مکمل تکنیکی وجہ ابھی سرکاری تحقیقات کے ذریعے طے ہونا باقی ہے، اس لیے آکسیجن سلنڈر کے دھماکے کی اطلاع کو دستیاب ابتدائی انتظامی اور ریسکیو معلومات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آگ لگنے کی وجوہ جاننے کے لیے شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ایوان صدر کے بیان کے مطابق انہوں نے متعلقہ حکام کو مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کے لیے حفاظتی انتظامات مزید مضبوط بنانے کی بھی ہدایت کی۔ صدر نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نو جاں بحق افراد کے خاندانوں کے لیے فی کس 20 لاکھ روپے مالی معاوضے کا اعلان کیا اور زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے بھی شفاف انکوائری کا حکم دیا اور رکن سندھ اسمبلی قاسم سومرو کو نگرپارکر جا کر امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کی ذمہ داری دی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی واقعے کی مکمل تحقیقات اور حقائق سامنے لانے پر زور دیا ہے۔

یہ سانحہ اسپتالوں اور ایمبولینسوں میں آکسیجن سلنڈروں، طبی گیس کے آلات اور آگ سے بچاؤ کے نظام کی حفاظت پر نئے سوالات اٹھاتا ہے۔ تحقیقات میں یہ طے کرنا اہم ہوگا کہ سلنڈر، ریگولیٹر اور ایمبولینس کے حفاظتی آلات مقررہ معیار کے مطابق تھے یا نہیں، عملے کو مناسب تربیت حاصل تھی یا نہیں، اور آیا کسی انسانی غفلت یا تکنیکی خرابی نے حادثے میں کردار ادا کیا۔ حتمی ذمہ داری انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی طے کی جا سکے گی۔